Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Aurat Aur Maghrabi Tarz e Zindagi

اگر آپ دنیا بھر میں مختلف خطوں کے معاشرتی طرز زندگی کا جائزہ لیں تو آپ کو ریاستی قوانین، مذہبی رسومات، معاشرتی قدروں، خاندانی نظاموں میں فرق دکھائی دے گا۔ ہرمعاشرے کے طرززندگی میں یہ حقیقت عیاں ہوگی کہ دنیا کا کوئی معاشرہ ایسا نہیں جہاں انسان اپنے ریاستی قوانین، مذہبی رسومات، معاشرتی قدروں، روایتی کلچر سے بغاوت کرکے پرسکون زندگی بسر کرسکے۔ دنیا کے ہرخطہ میں بسنے والے انسان اپنے مذہب، معاشرے اور کلچر کے سرکل میں ہی خوشگوار خاندانی زندگی بسر کرتے دکھائی دیں گے۔ چونکہ خاندانی نظام کی اکائیوں میں مرد اور عورت ہر معاشرے اور خاندان کی بنیاد ہے۔ اسی لیے مرداور عورت کے یک جان ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ نے شادی کے بندھن کی حدود طے کیں۔ شادی کا یہ بندھن مشرقی معاشرے میں باندھا گیا ہو یا مغربی معاشرہ کے کلچر میں ‘یہ معاشرتی ، مذہبی، اخلاقی، روحانی، جذباتی حوالے سے یہ اسلام میں بھی مقدس ہے اور عیسائیت میں بھی، یہودیت میں بھی اور بدھ ازم میں بھی ۔ اس بندھن کے عین مطابق خوشگوار شادی شدہ زندگی گزارنے کے لیے ہر مذہب اور معاشرے میں عورت اور مرد کی روحانی، جذباتی، اخلاقی، جسمانی، حیاتیاتی بنیادوں کے مطابق ہی زندگی گزارنے کے اصول وضع ہیں۔
قدرت نے جیسے مرد اور عورت کے جسمانی خدوخال اور شکل وصورت میں فرق رکھا ہے بالکل ویسے ہی ان کے جذبات، کردار، سوچ، حالات اور فرائض میں فرق رکھا ہے۔ تمام مذاہب کی کتابوں کے مطابق عورت اور مرد کو بیک وقت تلقین ہے کہ وہ ایسے کردار اور فرائض ادا کریں جو خدا نے آپ کو سونپے ہیں۔ اسی رو سے مرد کو خاندان کی سربراہی سونپ کر عورت کو اس کے تابع رہنے کا حکم دیا اور مرد کو بیوی سے محبت کے ساتھ پیش آنے کا حکم دے کر عورت کو بیوی کے کردار سے لے کر ماں کے کردار تک پہنچایا ،جس میں عورت نے محبت کے جذبہ سے سرشار ہوکر خاوند کا ساتھ نبھایا اور پھر ممتا کی گود سے ماں اور بچوں کے مابین اس بے لوث محبت کے جذبے نے جنم لیا جو دنیا کے ہرکونے اور خاندانی نظام میں ایک جیسا ہے ۔ مامتا کے اسی جذبے کی بناءپر اس عورت کے قدموں میں ہی جنت رکھ دی گئی جو بیوی کے کردار سے ماں کی شان تک جا پہنچی۔ اسی لیے ہی حضرت سلیمانؓ نے اپنے بیٹے کو تلقین کی بیٹا اپنے باپ کی تربیت پر کان لگا اور اپنی ماں کی تعلیم کو ترک نہ کر۔
میرے آج کے کالم کا موضوع مرد اور عورت کے کردار کی تشریح نہیں بلکہ عورت کے حقوق پر ہونے والا وہ مارچ ہے جس میں آزاد خودمختار مغربی عورت کی آزادی کو بنیاد بناکر آزاد خیالات رکھنے والی چند عورتوں کے ٹولہ نے خواتین کے حقوق کے نام پر حقائق کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی، انہوں نے عورت کے تقدس کو پامال اور مرد کو وِلن کے روپ میں پیش کرکے معاشرتی بیگاڑ پیدا کرنے کی جو مہم جوئی کی ہے اس پر پاکستان کی ہرماں بہن، بیٹی، بیوی نے شرم محسوس کی اور وِلن کا کردار بننے والے ہر عزت دار مرد نے اس کی بھرپور مذمت کی ہے۔ آپ ذرا مغربی عورت کی آزادی ، خودمختاری، کردارو فرائض کا سرسری جائزہ لے کر روزمرہ کے معمول میں مغربی عورت کے حالات اور اخلاقی قدریں ملاحظہ کریں اور پھر آپ خود اندازہ لگائیں کہ اس بے ہودہ مارچ کو آرگنائزکرنے والی عورتوں کے اس ٹولہ کے مقاصد میں عورت کے حقوق کی بات کرنا تھا یا کہ پھر یہ معاشرتی بیگاڑ کے لیے یہ بطور ہتھیار استعمال ہوئیں۔
مغربی طرز حیات میں ریاستی قوانین ، روایتی کلچر، خاندانی نظام اور معاشرتی قدروں نے عورت کو اس قدر تحفظ اور سوچ کی پختگی فراہم کی ہوئی ہے کہ مغرب کی یہ آزاد اور خودمختار عورت صبح سے لے کر شام تک خاوند کی طرح آفس میں جاب کرتی ہے ، فیکٹریوں میں کام کرتی ہے دکانوں ،سکولوں، ہسپتالوں ، گھروں میں صفائی تک کا کام کرتی ہے اور گھریلو اخراجات اور ذمہ داریوں میں خاوند کے ساتھ برابر کی شریک ہوتی ہے۔ دفتری ذمہ داریوں کے ساتھ خاندانی اصولوں کے مطابق امور خانہ داری نپٹانے، اپنے لائف پارٹنر اور بچوں کو صبح ناشتہ کروانا بچوں کو تیار کرنا، سکول چھوڑنا ان کی تربیت خود کرنے کو اپنے فرائض گردانتی ہے۔ مغرب کی یہ آزاد عورت جو بیوروکریٹ ، سیاستدان، بزنس مین ، سکول ٹیچر یا عام عورت ہوسکتی ہے وہ ویک اینڈ پر آپ کو کچن میں کھانا پکاتے، گھر کی صفائی کرتے، باغیچہ میں پودوں کی کھدائی کرتے، کپڑے پریس کرتے، پارٹنر کے ساتھ گھر کی شاپنگ کرتے امورخانہ داری میں بھی مصروف دکھائی دے گی۔ مغربی معاشرہ میں یہ اس آزاد اور خودمختار اور خوشگوار زندگی بسر کرنے والی اس عورت کی کہانی ہے جس نے اپنا آفس ، گھر، فیملی اور روزمرہ کے معمولات معاشرتی اصولوں اخلاقی قدروں اور خاندانی نظام کے اصولوں کے مطابق ترتیب دیا ہوتا ہے اور یہ آزاد اور خودمختار عورت کامیاب اور خوشگوار فیملی لائف گزارتے جب دادی ، نانی ماں کی اسٹیج پر پہنچتی ہے تو اس کی تصاویر اگلی نسل کے ڈرائنگ روموں میں سجی ہوتی ہیں اور اس کے کردار اورتربیت کی جھلک بچوں میں دکھائی دیتی ہے۔
تاہم مغربی سوسائٹی میں ایک کہانی اس آزاد اور خودمختار عورت کی بھی ہے جو اپنی معاشرتی روایات، اخلاقی قدروں، خاندانی اصولوں اور فرائض سے باغی ہوکر اپنی من مرضی کی زندگی انجوائے کرتے ڈسکو باروں میں بوائے فرینڈز کے ساتھ وقت گزارتی ہے ، سگریٹ پینے اور نشہ کرنے کی خاطر والدین سے علیحدگی اختیار کرتی ہے اور سوشل محفلوں کی زینت بنے رہنے پر خاندانی رشتے بھی بھول جاتی ہے۔ مغربی طرز حیات میں بھی عورت کے اس آزاد کردار کو نہ اس کا خاندان قبول کرتا ہے اور نہ معاشرتی قدریں۔ یورپ میں اس وقت ان آزاد عورتوں کی ایک کثیر تعداد نفسیاتی مریض بن کر اکیلے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ آزاد عورت کے بڑھاپے کی یہ کہانی یا تو اولڈ ہاﺅس پر جاکر ختم ہوتی ہے یا پھر کسی چھوٹے سے سوشل اپارٹمنٹ میں۔ بدقسمتی سے کچھ دن قبل ویمن ڈے پر حقوق نسواں کے نام پر عورتوں کے ایک مخصوص ٹولہ نے مغربی عورت کی آزادی، کردار فرائض کو غلط رنگ دیئے۔ مرد کو وِلن بناکر جو معاشرتی بیگاڑ پیدا کرنے کی کوشش اور پاکستان کی حقیقی عورت کے تقدس کی جس طرح تذلیل کی ہے یقینااس کے پیچھے ایک سٹریٹجی کے ساتھ کام کیا گیا تھا۔ ایسی کمپنیز اور ٹرینڈز کے ذریعے ہی معاشروں اور جنریشنز کو مینی پولیٹ کرکے معاشرتی بیگاڑ میں اضافہ کیا جاتا ہے اور ان کے پیچھے باقاعدہ ایک ٹیم کام کرتی ہے مخصوص حلقے باقاعدہ فنڈنگ کرتے ہیں۔ ایسی کمپنیز کو پھیلانے کے لیے ہمیشہ ایسی عورتوں کے چہروں کو استعمال کیا جاتا ہے جو فرسٹریشن کا شکار ہوتی ہیں۔ اگر آپ اس مارچ میں شامل چہروں کی پرسنل لائف ہسٹری کی پروفائل دیکھیں گے تو ان خواتین کی پرسنل اور پروفیشنل لائف اس حدتک ڈسٹرب دکھائی دے گی کہ رات کو سلیپنگ پلز لے کر سونا اور سوشل محفلوں میں مرد کو برا کہنا ان کا معمول ہوگا۔
دنیا کے کسی بھی مہذب معاشرے میں عورت کو عزت اور حقوق مظاہروں میں بے ہودہ پوسٹر اٹھا کر نہیں ملتے اس کے لیے تعلیمی شعور ،ذہنی پختگی معاشرتی قدروں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ریاستی قوانین میں تبدیلی کے ساتھ معاشرتی سوچوں کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں یقیناً عورت کے تعلیم حاصل کرنے، جاب کرنے کی آزادی اور حقوق کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور یہ آزادی ہرعورت کا حق ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ ان اقدامات کے لیے آزادی کے نام پر مخصوص حلقے معاشرتی بیگاڑ پیدا کرنے کے لیے ایسی بے ہودہ تحریکیں اور مارچ کرنا شروع کردیں۔ !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!