Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Atoms Ka Shakar Humare Bachy

جب کوئی یہ کہتا ہے کہ میں آپ کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں تو وہ ننانوے فیصد تک جھوٹ بولتا ہے، یہ عین ممکن ہے کہ جس کو اپنے کسی پیارے کے کسی دکھ ، پریشانی اور مسئلے کا سامنا ہو تو کوئی دوسرا اسے تھوڑا بہت محسوس کرے، اپنا چہرہ تھوڑا سا سنجیدہ کرے، آواز لہجہ کچھ نرم کرے، ،آواز کچھ بھاری کرے اور اظہار ہمدردی کے لئے کچھ اچھے الفاظ کا چناو¿ کرے۔ میری یہ حالت اس وقت بھی ہوئی تھی جب میں نے تھیلے سیمیا کے شکار بچوں کو دیکھا تھا۔ وہ بچے جن کے بدن میں نیا خون نہیںبنتا، انہیں زندہ رہنے کے لئے ہر پندرہ بیس روز کے بعد خون کی ایک بوتل کی ضرورت ہوتی ہے، وہ بچے شعور حاصل کرتے ہی چاکلیٹس اور کھلونوں کی بجائے اپنے زندہ رہنے کی خاطرانسانی خون مانگتے ہیں۔ میں ایک صحافی، ایک کالم نگار، ایک اینکر بھلا ان والدین کے دکھ، مصیبت اور پریشانی میں برابر کا شریک کیسے ہوسکتا ہوں،ہاں، ہمدردی ضرور ظاہر کر سکتا ہوں۔ میں امید کر سکتا ہوں، زور دے سکتا ہوں کہ عثمان بُزدار کی حکومت شادی سے پہلے تھیلے سیمیا کے لازمی ٹیسٹ کی قانون سازی کا جوعندیہ دے رہی ہے ، وہ واقعی کر دے۔ میری ایسی ہی کچھ حالت آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر کا شکار بچوں کو دیکھ کے بھی ہوئی۔ کچھ عرصہ پہلے مجھے آٹزم کاعلم نہیں تھا کہ محترم فاروق بھٹی نے آٹزم کے عالمی دن کے موقعے پر اپنی بھانجی کا ذکر کیا، جن کو یہ علم ہوا کہ ان کا بیٹا قاسم اس بیماری کا شکار ہے تو انہوں نے اپنی نامکمل تعلیم کو سپیشل ایجوکیشن میں نہ صرف مکمل کیا بلکہ اس میں سپیشلائزیشن کی اور اب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ساتھ بہت سارے دوسرے بیٹوں اوربیٹیوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں اگرچہ وہ ایک کمرشل آرگنائزیشن میں ہیں مگرمسئلہ یہ ہے کہ سرکاری سطح پر آٹزم کو معذوری ہی تسلیم نہیں کیا جاتا۔ سرکار اس وقت سماعت، بصارت میں خلل کے ساتھ ساتھ جسمانی اور ذہنی معذوری کو ہی معذوری سمجھتی ہے۔ میں یہاں کنفیوژن کا شکار ہوا اور پوچھاکہ کیا آٹزم ذہنی معذوری نہیں، جواب ملا نہیں کہ ذہنی معذوری میں آئی کیو لیول متاثر ہوتا ہے جبکہ آٹزم کے شکار بچے بہترین آرٹسٹ اور فنکار بن سکتے ہیں، ان میں آئن سٹائن بننے کی صلاحیت بدرجہ اُتم موجود ہوتی ہے۔ آٹزم کا علم ڈیڑھ ، دو برس کی عمر میں اس وقت ہوتا ہے جب ایک بچہ معمول کے مطابق رسپانس نہیں دیتا، وہ اپنی دنیا میں مگن رہتا ہے، اپنے افعال کو دہراتا ہے جن میں گفتگو بھی ہو سکتی ہے اور ہاتھ کی حرکت بھی، یہ حرکتیں تکلیف دہ اور ضرر رساں بھی ہوسکتی ہیں لہٰذا ان بچوں کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر میں درمیانی لفظ سپیکٹرم اسی لئے شامل ہے کہ آٹزم کے شکار ہر بچے کے مرض کی علامات اور خصوصیات دوسرے بچے سے مختلف ہوسکتی ہیں اور یوں یہ مرض زیادہ پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ میری ملاقات کارنر سٹون سکول کی ڈائریکٹر میڈم وجیہہ رو¿ف سے ہوئی تو مجھے اندازہ ہوا کہ میرا رب لوگوں کے لئے وسیلے کیسے بناتا ہے، جیسا میں نے کہا کہ پاکستان میں آٹزم کے شکار بچوں کے لئے سپیشل چلڈرن کی مخصوص کیٹیگری نہیں ہے تو میڈم وجیہہ رو¿ف کی سگی بہن کو اپنے بیٹے میں اس مرض کا سامنا کرنا پڑا، وہ تو بیرون ملک شفٹ ہوگئیں مگران کے ذہن میں خیال آیا کہ ایسے بچوں کو معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کے لئے کوئی درس گاہ ضرور ہونی چاہئے، انہوں نے اپنے خیال پر عمل کر لیا مگر میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ درس گاہ بغیر نفع نقصان کے بھی چل رہی ہو تو ایک عام آدمی کے لئے افورڈ ایبل نہیں ہے بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ہم میں سے بہت سارے، میری طرح، آٹزم کے مرض سے ناواقف ہو سکتے ہیں مگر امریکا میں ہونے والی تحقیق بتاتی ہے کہ ہر انسٹھ میں سے ایک بچہ آٹزم کا شکار ہوتا ہے اور اگر ہم انہی اعداد و شمار کو پاکستان کی ناقص طبی صورتحال کے باوجود جمع تفریق کے لئے استعمال کریں تو پاکستان میں لاکھوں بچے اس مرض کا شکار ہو سکتے ہیں اور ان کے والدین کے پاس کوئی اُمید او رکوئی سہارا بھی نہیں ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکے چار گنا زیادہ اس مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اس وقت تک آٹزم کا کاکوئی علاج تلاش نہیں کیا جا سکا، ہم جسے علاج کہتے ہیں وہ محض کچھ ٹیکنیکس ہیں جنہیں استعمال کرکے ہم ان بچوں کے روئیوں اور افعال میںبہتری لا سکتے ہیں۔ لاکھوں بچے آٹزم کا شکار ہونے کے باوجود ہماری حکومت، ہمارا معاشرہ اور ہمارا میڈیا عمومی طور پر اس مرض سے آگاہ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ اگرمیں عام آدمی کو اس بارے میں بتانا چاہوں تو کیا بھارت میں عامر خان کی فلم ’ تارے زمین پر‘ کا حوالہ دے کر سمجھا سکتا ہوں، جواب ملا، سمجھانے کے لئے اس فلم کا حوالہ استعمال کیا جا سکتا ہے مگر آٹزم کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے کے لئے ہندی ( بلکہ اردو ہی سمجھ لیں) میں بننے والی فلم ’ مائی نیم از خان‘ زیادہ بہتر حوالہ ہے جسے کرن جوہر نے بنایا اور فروری 2010 میں ریلیز ہوئی ۔ شاہ رخ خان نے اس میں رضوان خان کا کردار نبھایاجو ایسپرگرز سینڈروم کا شکار ہوتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے آٹزم کے عالمی دن پر ایک ٹوئیٹ بھی کیا جس میں انہوں نے آٹزم کے شکار بچوں کے علاج بارے اپنی کمٹ منٹ کااظہار کیا مگر میں ان کے ٹوئیٹ کے باوجود حکومتی سطح پر اقدامات بارے کچھ زیادہ پر امید نہیں ہوں کہ ان کے سامنے اس وقت بہت سارے دوسرے مسائل ہیں جو ان کے لئے آٹزم کے شکار بچوں سے کہہیں زبادہ اہم ہوسکتے ہیں، اللہ کرے میں یہاں غلط ثابت ہوجاو¿ں۔ میں نے آغاز میں کہا ،’ جس تن لاگے سوتن جانے اور نہ جانیں لوگ، من کی پیڑا جانے جس کو لاگا روگ‘ ، میں نے محترمہ وجیہہ رو¿ف کی باتیں سنیں تو مجھے سابق فوجی آمر ضیاءالحق یاد آ گئے جن کے دور میں ذہنی و جسمانی معذوری کے شکاربچوں کے لئے گرانقدر کام ہوا، ان کے علیحدہ سکول بنے، تحقیق اور علاج کو اہمیت دی گئی کیونکہ ان کی صاحبزادی سپیشل پرسن تھیں۔ میںدعا گو ہوںکہ میرے حکمرانوں اور فیصلہ سازو ں کے بچےشاد و آباد رہیںاور انہیں کسی قسم کے مسئلے کا سامنا نہ ہو مگر ان کے دل ضرور اتنے گداز ہوں کہ وہ دوسروں کے بچوں کے امراض، مشکلات اور مسائل کو بھی سمجھ سکیں۔ میں نے ایک تصویر دیکھی جس میں ایک بیل گاڑی والے نے اپنے بیل کوسخت دھوپ سے بچانے اور سائے میں رکھنے کے لئے گاڑی کے اوپر چھڑیوں کی مدد سے بوری کی چھت ڈال رکھی تھی، میرا پہلا خیال ہی یہی تھا کہ اگر میرا رب ہمیں ایسی نیت، تربیت، فطرت اور عادت والا حکمران دے گا تب ہی ہمارے مسائل حل ہوں گے۔ میں یہ کہوں کہ آٹزم کا شکار بچوں کے والدین کے دکھ، مصیبت اور مشکل میں برابر کا شریک ہوں تو یہ جھوٹ ہو گا مگر اتنا ضرور شریک ہوں کہ ان بچوں سے جدا ہونے کے باوجود ابھی تک ان کے ساتھ ہوں۔ان کے بارے فکر مند ہوں، ان کے بارے سوچ رہا ہوں ۔ اور میرے پیارے بچو! تم میری بات نہیں سن سکتے، میری تحریر نہیں پڑھ سکتے مگر میںتمہارے لئے پروگرام ہی کر سکتا ہوں، کالم ہی لکھ سکتا ہوں، گواہ رہنا کہ میں نے اپنی استطاعت کے مطابق تمہارا حق ادا کر دیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!