Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Aseeran Kashmir Bhook Hartal

شب 9بجے سینٹرل جیل سرینگر میں مقید اسیران کویہ پتاچلاکہ ان میں کئیوںکو بیرون وادی ، جموں اوربھارتی ریاستوںکی جیلوں میں منتقل کیا جارہا ہے جس پر داروغان جیل اوراسیران کشمیر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، اسیران نے داروغان جیل کو ان کی بیرون وادی جیل منتقلی پر روک لگانے کی مانگ کی ۔داروغان جیل نے کذب بیانی سے کام لیتے ہوئے اسیران سے کہاکہ وہ انہیں بیرون وادی نہیں بلکہ جیل کے اندرہی پرانی بیرکوں سے نئی بیرکوں میں منتقل کررہے ہیں۔ لیکن اسیران سنیٹرل جیل اصل کہانی سے پوری طرح باخبرہوچکے تھے جس کے باعث جیل کی تمام بیرکوںمیں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا،اور رات بھرقابض انتظامیہ ،داروغان جیل اوربھارت کے خلاف نعرہ بازی جاری رہی۔صورتحال اس وقت شدیدابتراوربے قابو ہوئی اور حالات نے اس وقت گھمبیر رخ اختیار کیاکہ جب داروغان جیل نے اسیران کی بیرکوں پر شیلنگ کی اور پیلٹ کا استعمال کیا ۔شیلنگ سے گیس سلنڈرپھٹ گئے جسکے باعث جیل کے کئی شیڈاور 2بیرکیں نذر آتش ہوئیں،درجنوں محبوسین زخمی ہوئے جن میں2کی حالت نازک بتائی گئی ور انکی آنکھوں میں چوٹیں آئیںجبکہ اسیران کا سامان جل گیااور جیل کے داخلی اور خارجی دروازوں پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے بھی ٹوٹ گئے۔ سینٹرل جیل میںپیداشدہ صورتحال کے خلاف عوام کی طرف سے امکانی احتجاج پرروک لگانے اورصورتحال پر قابو پانے کے لئے سینٹرل جیل سری نگرکے نزدیکی علاقوں،کاٹھی دروازہ ،مخدوم صاحب،ملہ کھاہ ، نوہٹہ،رعناواری اور خانیار سمیت پائین شہر میں بندشیں عائد کی گئیںاورلوگوں کی نقل وحرکت پرقدغن عائدکردی گئی۔اس دوران قابض انتظامیہ نے وادی میں انٹر نیٹ سروس معطل کردی جبکہ میر واعظ ڈاکٹرعمرفاروق جوجمعہ کوتاریخی جامع مسجدمیں کشمیری مسلمانوں کی آوازبن کرآزادی اورحق خودارادیت کے مطالبے کودھراتے ہیںکوانکے دولتخانہ واقع نگین حضرتبل میں نظر بند کر کے تاریخی جامع مسجدسری نگر میں نماز ادا کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔خیال رہے کہ سری نگرکی تاریخی جامع مسجد سینٹرل جیل کے ایریامیں واقع ہے۔قابض انتظامیہ کے دعوئوں کے مطابق سرینگر سینٹرل جیل میں فی الوقت400سے زائد کشمیری نوجوان اسیرہیں۔ 7اپریل کو کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلا ء پر مشتمل پانچ رکنی ٹیم جس نے سرینگرسینٹرل جیل کادورہ کیانے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ قیدیوں کو اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی جبکہ ان پر مظالم بھی ڈھائے جارہے ہیں جس کے باعث ان کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔وکلاء ٹیم کاکہناہے کہ اسیران پررحم کھانے کے بجائے قابض انتظامیہ نے اسیران کے خلاف ہی ایف آئی آر درج کی گئی جس پر ردعمل کے طور اسیران سینٹرل جیل نے بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کشمیرہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کاکہناتھاکہ کشمیری قیدیوں کو منصوبے کے تحت بھارتی جیلوں میں منتقل کیا جاتا ہے تاکہ عدالتوں میں انکی پیشی ناممکن بنائی جاسکے۔ کشمیری قیدیوں کو عدالتوں میں پیش نہ کر کے ان کی قید کو طول دیا جاتا ہے۔بار نے سینٹرل جیل سرینگرمیں قیدیوں کے خلاف طاقت کااستعمال کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اس معاملے کو عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔کشمیر ہائی کورٹ بار نے مطالبہ کیا ہے کہ سرینگر کے سینٹرل جیل میں قانون کوبغیر کسی اختیار کے اپنے ہاتھ میں لینے اور قیدیوں کو مارنے پیٹنے والوںکے خلاف مناسب کارروائی کی جائے، بار کاکہناہے کہ ریاست سے باہر اور ریاست کے اندر جیلوں میں قیدیوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے سے متعلق مفاد عامہ کی ایک عرضی زیرغور ہے۔ دوسری جانب اسیران سینٹرل جیل سری نگر کے لواحقین میں اپنے عزیزوں کے تئیں زبردست تشویش پائی جارہی ہے۔ سینٹرل جیل سرینگرمیں پیداشدہ سنگین صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسیران کے لواحقین کاکہناہے کہ انکے لخت ہائے جگر کو داروغان جیل کی طرف سے تشددسختی کاسامناہے جبکہ ان کے ساتھ سختی برتناکھلی جارحیت ہے۔انکاکہناہے کہ داروغان جیل کااسیران کے تئیں طرز عمل انتہائی جارحانہ اور انکی غذاناقص ہے جبکہ علاج ومعالجے کی سہولیات سے انکے بچوں کو محروم رکھا گیا ہے۔اسیران کشمیرکے لواحقین کاکہناہے کہ جب وہ اپنے عزیزوںکے ساتھ ملاقات کی غرض سے سینٹرل جیل جاتے ہیںتو انکے ساتھ بھی سختی برتی جارہی ہے جس کے باعث انہیں زبردست پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گذشتہ دنوں جیلوں میں نظربند کشمیریوں کے اہل خانہ نے قیدیوں کی جانوں کو درپیش خطرات کے خلاف پریس انکلیو سری نگر میں احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ قیدی جیلوں میں محفوظ نہیں ہیں۔ کشمیری قیدیوں کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ جب سے سری نگر کی سینٹرل جیل سے انہیں دوسری جیلوں میں بھیجا گیا ہے تو انہیں انتہائی ناقص غذا فراہم کی جاتی ہے اور انہیں بھوکا رکھ کر اذیت میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ اسی طرح واش روم میں استعمال ہونے والے برتنوں میں انہیں پانی پینے کیلئے مجبور کیا جاتا ہے۔اپنے پیاروں سے مل کر آنے والے کشمیری زاروقطار روتے اور بھارتی جیلوں کا احوال بیان کرتے رہے ۔روتے بلکتے انہوں نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ بھارتی جیلوں میں قید کشمیریوں کی حالت زار کا نوٹس لیں اور غاصب بھارت سرکار کے ظلم و دہشت گردی سے مظلوم کشمیریوں کو نجات دلانے کی کوشش کریں لیکن معاملہ چونکہ مظلوم کشمیری مسلمانوں کا ہے اس لئے کشمیریوں کی یہ آواز کوئی سننے کیلئے تیار نہیں ہے بلکہ ہر آنے والے دن کشمیریوں کی قتل و غارت گری کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے۔ مظاہرین نے قابض انتظامیہ پر زور دیا کہ کشمیر کی جیلوں کو کو گوانتاناموبے میں تبدیل نہ کرے۔احتجاجی مظاہرین نے سری نگر سینٹرل جیل میں قید کشمیریوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روارکھے جانے اورانہیں بیرون ریاست بھارتی ریاستوںکی جیلوں میں محبوسین کی صورت حال کا جائزہ لینے اور انہیں انصاف فراہم کرانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی چارٹر کی کھلی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور محبوسین کو بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جارہا ہے۔ عالمی قوانین کے تحت انسانی وقاراوربنیادی حقوق کی فراہمی ہر قیدی کاحق ہے ۔ان قوانین کے مطابق انہیں معقول غذا،طبی سہولیات،صاف ستھراماحول اور مناسب لباس ،بسترہ اورسامان فراہم کرناہوتے ہیں جبکہ انہیں اپنے گھروالوںاور وکلا سے ملاقات کی سہولیات فراہم کرنا ہوتی ہیں۔ہر ایک جیل جہاں200قیدی بند ہوں تولازم اس جیل میں کینٹین سہولیات بھی فراہم کرنا ہوتی ہیں اور ہنگامی حالات میں قیدیوں کی ہسپتال منتقلی بھی جیل قوانین میں درج ہیں ۔ قیدیوں کو غروب آفتاب کے بعد بارکوں سے باہر کسی اور جگہ نہیںلایاجاسکتاہے نہ ہی انہیں اس امرپرمجبور کیاجا سکتاہے ۔ اسیران کے ساتھ کسی بھی طرح کا نامناسب اورناروا سلوک روانہیںرکھاجاسکتا ،مگریہ بدقسمتی ہے کہ کشمیری اسیران کے لئے کوئی حقوق نہیں،یہی وجہ ہے کہ رات کے 9بجے اسیران کشمیرکواشتعال دیاجارہاہے تاکہ داروغان جیل کوانکے زیرمطالعہ دینی کتابوں کی بے حرمتی کرنے اور ان پرگولیاں اور پیلٹ چلانے کابہانہ مل جائے ۔اسیران سینٹرل جیل سری نگر کو پرانی بارکوں سے نئی بارکوں میں منتقل کرنے کی رام کہانی جوداروغان جیل بیان کررہے ہیں ،سچ نہیں ہے بلکہ یہ حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سینٹرل جیل سری نگرمیں ہنگامہ برپاکیاجائے تاکہ کشمیری قیدیوںکوآسانی کے ساتھ انڈین جیلوں میں منتقل کیاجاسکے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!