Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Amir e Jamat Islami Ki ” Munfarad ” Taqreeb Half Bardari

اسلام آباد سے تھکا دینے والا سفر طے کرنے کے بعد منصورہ پہنچا تو امیر جماعت اسلامی کی تقریب حلف برداری کا آغاز ہو چکا تھا پنڈال میں لیاقت بلوچ کی آواز گونج رہی تھی وہ جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے امیر جماعت اسلامی کے انتخاب کی تفصیلات بتا رہے تھے دلچسپ امر یہ ہے کہ جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے ان کا نام تیسری بار امیر جماعت اسلامی کے لئے پینل میں تجویز کیا لیکن وہ امیر جماعت اسلامی نہ بن سکے ۔ پہلی بار سید منور حسن ، پروفیسر ابراہیم اور دوسری بار سینیٹرسراج الحق اور سید منور حسن اور تیسری بار سینیٹرسراج الحق اور پروفیسر ابراہیم کے ساتھ ان کا نام تجویز کیا گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے پاس سید مودودیؒ، میاں طفیلؒ اور قاضی حسین احمدؒ کے منصب پر فائز ہونے کے لئے یہی تین چار شخصیات ہیں لیاقت بلوچ پچھلے 10سال سے مستعدی سے جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل کے فرائض انجام دے رہے ہیں اس تقریب کا حسن یہ تھا کہ امارت کی دوڑ میں شریک لیاقت بلوچ اور پروفیسر ابراہیم دونوں بہ نفس نفیس موجود تھے جب کہ لیاقت بلوچ نومنتخب امیر کا خیر مقدم کر رہے تھے۔ ہم نے جماعت اسلامی کے روح رواں شاہد شمسی اور ڈپٹی سیکریٹری راشد اولکھ کی معیت میں منصورہ میں قدم رکھا اور پھر ان ہی قدموں پر رات 3بجے واپس اسلام آباد واپس لوٹ گئے تقریب میں جماعت اسلامی کے مرکزی و صوبائی امراء ، ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل ، علماء و مشائخ ، مختلف دینی جماعتوں کے رہنمائوں ، میڈیا کی معروف شخصیات اور جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکنوں نے شرکت کر کے رونق دوبالا کر دی تھی تاہم بڑی سیاسی و دینی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کی کمی محسوس کی گئی ۔ اسلام آباد سے سینئر صحافی شکیل ترابی ،محسن رضا ،ضرار خان ، میاں منیر ،ڈاکٹر نعیم اللہ اور احسان ک کوہاٹی بھی تقریب کی رونق دوبالا کرنے آئے تھے ۔ پنڈال جماعت اسلامی کے کارکنوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر امیر العظیم نے اپنی نشست میرے لئے خالی کرکے عزت افزائی کی۔ میرے ساتھ والی نشست پر سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کے صاحبزادے آصف لقمان قاضی براجمان تھے میں ان کی قربت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ’’آج‘‘ کی رات خواب کے بارے میں بتایا کہ’’ میں نے قاضی حسین احمد کو امیر جماعت اسلامی کی تقریب حلف برداری میں دیکھا ہے ‘‘ تو ان کی آنکھوں چمک آگئی قبل اس کے کہ وہ خواب کی مزید تفصیل پوچھتے لیاقت بلوچ نے نو منتخب امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کو حلف اٹھانے کے سٹیج پر بلا لیا یہ اپنی نوعیت کا منفرد حلف تھا جس میں امیر جماعت اسلامی سے کسی نے حلف نہیں لیا بلکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے دوسری مدت کے لئے جماعت اسلامی کی امارت کا حلف اٹھا یا ۔کسی پارٹی کی قیادت کرنا دنیاوی اعتبار سے تو بڑی بات ہے پاکستان کی بیشتر سیاسی و دینی جماعتوں میں ’’موروثی‘‘ قیادت ہی ہوتی ہے لیکن جماعت اسلامی شاید پاکستان کی واحد جماعت ہے جس میں کوئی شخص اپنے آپ کو اس منصب کے لئے پیش نہیں کرتا جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ تین نام تجویز کرتی ہے جن میں سے کسی ایک کو 39ہزار سے زائد ارکان اپنا امیر منتخب کرتے ہیں ۔جب سعودی عرب کے دورے کے دوران سینیٹر سراج الحق کو دوسری بار امیر منتخب ہونے کی اطلاع ملی تو وہ اس ذمہ داری پر زار وقطار رونے لگے ۔ حلف اٹھاتے ہوئے اس درویش صفت پرکپکپی طاری تھی بس یوں سمجھ لیں کہ کوئی شوق سے اس مقتل میں نہیں آتا بہر حال جماعت اسلامی کے ارکان نے پانچ سال کے بعد ایک بار پھر دوسری مدت کے لئے سینیٹرسراج الحق پر یہ ذمہ داری سونپ دی ہے ان کی حلف برداری کی تقریب شاندار وپروقار مگر سادہ تھی ‘ یہ تقریب سینیٹرسراج لحق کے لئے نہیں بلکہ جماعت اسلامی کے منتخب امیر کے حلف کے لئے منعقد ہو رہی تھی‘ لہذا پنڈال کے کسی بھی کونے سے انفرادی نعرے بازی نہیں کہی گئی۔ لیاقت بلوچ نے خوبصورت انداز میں سٹیج سیکریٹری فرائض انجام دئیے۔ لیاقت بلوچ جیسی قد آور سیاسی شخصیت جماعت اسلامی ہی کی نہیں بلکہ پورے ملک کی سیاست میں ایک اثاثہ ہے جن کی پوری زندگی جدو جہد سے عبارت ہے حلف برداری کے بعد سینیٹر سراج الحق نے لکھی ہوئی تقریر پڑھی کبھی کبھی وہ لکھی ہوئی تقریر سے ہٹ کر بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ان کا خطاب کم و بیش نصف گھنٹہ پر محیط تھا جس میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کے لئے ہدایت و رہنمائی ، جماعت اسلامی کے پروگرام اور منصوبہ بندی کی تفصیلات تھیں لیکن ان کی پوری تقریر میں متحدہ مجلس عمل کے ساتھ ’’تعلقات کار ‘‘ کے بارے میں ’’خاموشی‘‘ پائی جاتی تھی انہوں نے اپنی تقریر میں عام انتخابات میں جماعت اسلامی کی ’’شکست‘‘ بارے میں کوئی تجزیہ پیش نہیں کیا اسی طرح ان کی تقریر میں موجودہ حکومت سے جان چھڑانے کے بارے جماعت کے کارکنوں کو کوئی لائحہ عمل نہیں دیا گیا شاید وہ موجودہ حکومت کو پانچ سال تک برداشت کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں یاد دلایا کہ’’ کرپشن کے خلاف تحریک جماعت اسلامی نے شروع کی تھی ہماری تحریک کا عنوان کرپشن سے پاک پاکستان ہے۔ پانامہ کیس بھی ہم سب سے پہلے عدالت میں لے کرگئے لیکن تحقیقات چند مخصوص لوگوں کے خلاف ہوئی ۔ 436 لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ’’ کرپشن کے خلاف شور نہیں لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے حکمرانوں نے اقتدار میں آنے سے قبل وعدہ کیا تھا کہ جس دن ان کی حکومت میں آئے گی اگلے ہی دن لوٹی ہوئی اربوں ڈالر کی دولت پاکستان واپس لائی جائے گی لیکن دولت واپس نہ آئی ‘‘۔ سینیٹر سراج الحق کو اپنے کارکنوں یہ بھی بتانا چاہیے کہ کرپشن کے خلاف تحریک کا سب سے زیادہ فائدہ تحریک انصاف نے اٹھایا اور اس نے عام انتخابات میں جماعت اسلامی سے آنکھیں پھیر لیں ۔ انہوں نے ملکی معیشت کی بہتری کے لئے حکومت کی طرف اٹھائے گئے اقدامات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ’’ یہ معیشت سدھارنے والے نہیں بلکہ معیشت تباہ کرنے والے ہیں۔ ایک روٹی اور آدھی روٹی کھانے سے ملکی معیشت نہیں سدھر سکتی ملک کی معیشت کو مستحکم کرنا ہے تو حکومت اپنے وعدوں اور دعوؤں کے مطابق لوٹی ہوئی دولت واپس لائے اور احتساب کا صرف شور نہ کیا جائے سب کا احتساب ہونا چاہیے‘‘۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان شروع دن سے ’’احتساب سب کا‘‘ مطالبہ کر رہے ہیں ۔ لیکن ’’مخصوص ‘‘ لوگوں کو احتساب کی چکی میں پیسنے سے غیر جانبدار احتساب کے تقاضے پورے نہیں ہوتے ۔ وہ سمجھتے ہیں صرف چند لوگوں کے خلاف کارروائی سے انتقام کا تاثر ابھرتا ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ’’ انتخابات کے نام پر ایسی انجینئر نگ کی جاتی ہے کہ تابعداری کی شرط پر لوگ منتخب قرار پاتے ہیں ۔ بظاہر اقتدار میں سیاسی لوگ ہوتے ہیں مگر اصل حکومت’’ غیر سیاسی ماسٹرز‘‘ کی ہوتی ہے ۔ جنرل ایوب سے جنرل مشرف تک ، سب نے اپنے ذاتی مقاصد اور اقتدار کے دوام کے لئے جمہوریت ، دستور ، قانون ، پارلیمنٹ ، عدلیہ اور ملکی وقار کو نقصان پہنچایا ۔ آج مقننہ ، عدلیہ ، انتظامیہ اور حکومت بے بس ہے ۔ وفاقی کابینہ میں پرویز مشرف کے درجن بھر وزیر جمہوریت اور جمہوری نظام کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔ ملک میں دو نظام ، دو حکومتیں اور دو عدالتیں نہیں چل سکتیں‘‘ ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ موجودہ حکومت بھی عوام کی توقعات اور امیدوں پر پورا نہیں اتر سکی ، یہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کا تسلسل ہے انہوں نے بھارت کے ساتھ مذاکرات اور تعلقات کی حمایت کی اور کہا کہ ’’ جب تک بھارت کشمیر سے غاصبانہ قبضہ ختم کر کے نکل نہیں جاتا ، اس سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوسکتے ‘‘۔انہوںنے مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی کی مذمت کی اور بنگلہ دیش میں محب وطن پاکستانیوں کی پھانسیوں پر اظہار تشویش کیا ۔ بنگلہ دیش میں محب وطن پاکستانیوں کے قتل عام پر پوری قوم کو سراپا احتجاج بننا چاہیے سینیٹر سراج الحق نے دوحہ مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں نیٹو کی شکست سے عالمی سامراج کو عبرت پکڑ لینی چاہیے اگرچہ سینیٹر سراج الحق نے طویل تقریر کی لیکن ان کی تقریر میں ہم خیال جماعتوں سے تعلقات کار کے بارے میں کوئی بات نہیں کہی گئی انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) جو پنجاب کی مقبول ترین جماعت ہے سے تعلقات کار بہتر بنانے کے لئے بھی لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا حلف برداری کی تقریب کے اختتام پر کمیٹی روم میں جماعت اسلامی کے سیکریٹری اطلاعات قیصر شریف نے اسلام آباد ، ملتان اور پشاور سے آئے ہوئے اخبار نویسوں سے سینیٹر سراج الحق کی خصوصی ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ سینیٹر سراج الحق اخبارنویسوں کے چبھتے سوالات کی تلخی کو اپنی ’’مسکراہٹ ‘‘ میں چھپانے کی کوشش کرتے رہے ایک صحافی نے ان پر سب سے زیادہ تلخ سوال داغ دیا کہ ’’ آپ کی امارت کے دوران جماعت اسلامی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے‘‘ سینیٹر سراج الحق نے اپنی مسکراہٹ سے سوال کی تلخی کو چھپا لیا اور بڑے تحمل سے ان کے سوال کا جواب دیا انہوں نے سوال کندہ سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ بعض حلقوں میں ہمیں پہلے سے زیادہ ووٹ ملے ہیں انتخابی نتائج شکست کا تعین نہیں کرتے انجینئرڈ الیکشن کے نتیجہ میں کسی اور کامیابی دلائی گئی۔ انتخابات کے نام پر ایسی انجینئر نگ کی جاتی ہے کہ ’’تابعداری‘‘ کی شرط پر لوگ منتخب قرار پاتے ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق ’’انجینئرڈ الیکشن‘‘ کا تذکرہ اشاروں کنایوں میں تو ضرور کرتے ہیں لیکن کھل کر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں ۔ ان سے متحدہ مجلس عمل کے مستقبل کے بارے میں بار بار سوال کیا گیا تو انہوں نے بس اتنا ہی کہا کہ’’ ایم ایم اے انتخابی اتحاد تھا اب ہم جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم پر ترازو کے نشان پر انتخاب لڑیں گے ‘‘چونکہ یہ جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کا فیصلہ ہے لہذا فوری طور اس پر نظر ثانی بھی ممکن نہیں ۔1970ء کے انتخابات میں جماعت اسلامی کے ارکان کی تعداد آج کی جماعت اسلامی سے کم تھی لیکن اس وقت جماعت اسلامی کا ووٹ بینک 22فیصد تھا لیکن آج اس کا ووٹ بینک اس حد تک کم ہو گیا ہے کہ اس کا ذکر بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ سینٹر سراج الحق کے سامنے سب سے بڑا چیلنج جماعت اسلامی کی مقبولیت کا گراف بلند کرنا ہے جما عت اسلامی کا قیمتی ’’سرمایہ‘‘ دوسری جماعتوں کی قوت کا باعث بن گیا ہے اسے اپنی ’’لوٹی‘‘ دولت کو واپس لانے میں بڑی محنت کرنا ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!