Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Allama Iqbal Aur Professor Akbar Munir

مسلم دنیا میں صدیوں تک فارسی رابطے کی زبان رہی تھی ،ماضی میں بیشتر مسلم ممالک ترک خلافت کے ماتحت رہے اورخلافت عثمانیہ کی سرکاری زبان فارسی تھی جوایران ،وسط ایشیائی ممالک اور برصغیر پاک وہند میں بھی لکھی،پڑھی اور بولی جاتی تھی حتیٰ کہ پنجاب کے مقامی حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ حکومت کی زبان بھی فارسی ہی تھی ۔متحدہ ہندوستان پر انگریزوں نے قبضہ کرنے کے بعد فورٹ ولیم کالج کلکتہ کے ذریعے اردو زبان کو فروغ دے کر فارسی کو پس منظر میں دھکیل دیا تھا، اس دوران خلافت عثمانیہ کا بھی خاتمہ کرکے اسے مختلف مسلم ممالک میں تبدیل کردیا گیا جس سے فارسی زبان صرف ایران تک محدود ہو کر رہ گئی اور متحدہ ہندوستان کے کسی دل جلے شاعرکوکہنا پڑا تھا ….پڑھو فارسی بیچو تیل
آزادی کے بعد پاکستان میں فارسی کے ساتھ اردوکو بھی نظراندازکرکے انگریزی زبان کا تسلط قائم کردیا گیا بالخصوص پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے عربی و فارسی اور اردو کو دیس نکالا دے کرقوم پر انگریزی زبان تھوپ دی ۔ہر زبان رائج ہونے پر اپنی ثقافت بھی ساتھ لاتی اور اسے فروغ دیتی ہے لہٰذا ہماری قوم نے انگریزی زبان کے ساتھ انگریزی لباس اور اخلاقیات کو بھی اپنا لیا ہے۔ ہمارے بیشترانگلش میڈیم تعلیمی ادارے ”اینگلوپاکستانی “ نسل تیارکررہے ہیں جومفکر پاکستان علامہ اقبال کا فارسی ہی نہیں اردوکلام بھی نہیں پڑھ سکتی ۔علامہ اقبال کے معاصر اردوو فارسی کے شاعرپروفیسر اکبر منیر (مرحوم) کا شمار بھی ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہیں آزادی کے بعد اردو ، فارسی کو نظرانداز کئے جانے کی وجہ سے ادب میں ان کا جائز مقام نہیں مل سکا ۔
علامہ اقبال کی طرح پروفیسر اکبر منیر بھی سیالکوٹ کے مردم خیزخطے سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ عمرمیں علامہ اقبال سے 18 برس چھوٹے تھے گورنمنٹ ہائی سکول سیالکوٹ سے میٹرک کا امتحان پاس کرکے لاہور چلے آئے اور ایف سی کالج سے ایف اے کرکے اسلامیہ کالج میں داخلہ لیا مگر بی اے پاس کرنے سے پہلے کلکتہ جاکر مولانا ابوالکلام آزاد کے دارالارشاد میں داخل ہو گئے تھے۔ پھر لاہور واپس آکر اورینٹل کالج سے منشی فاضل ،بی اے اور ایم اے عربی کے امتحانات پاس کرنے کے بعد علامہ اقبال کے مشورے سے بحرین چلے گئے جہاں عرب اور ایرانی طلبہ کو ان کی مادری زبانوں میں انگریزی زبان وادب کی تعلیم دیتے رہے ۔انہوں نے ”تاریخ بحرین “ کا عربی سے انگریزی میں ترجمہ بھی کیا تھا ،بحرین سے ایران منتقل ہونے کے بعد پروفیسر اکبرمنیر شیرازشہرمیں نواب قوام الملک شیرازی کے معلم بن گئے،شیرازکے بعد وہ اصفہان کے راستے دارالحکومت طہران (تہران) منتقل ہوگئے اور انگریزی کی تدریس شروع کردی اس کے ساتھ ساتھ وہ فرنچ زبان بھی سیکھتے رہے ۔
تہران میںپروفیسر اکبر منیر بادشاہ احمد شاہ قاچارکے نواب اورادبی مجلہ ”بہار“ کے مدیر یوسف اعتصام الملک کے ساتھ ساتھ ان کی شاعرہ صاحبزادی خانم پروین اعتصامی کے بھی بہت قریب رہے تاہم گھریلومجبوریوں کے باعث ان سے شادی نہ کرسکے پروفیسراکبرمنیراگلے برس طہران سے ہمدان اورکرمان شہروں کے راستے سیرو سیاحت کرتے بغداد پہنچ گئے وہ بغدادمیں بھی بطور ٹیوٹرطالب علموں کوانگریزی زبان وادب پڑھاتے رہے اورترکی زبان بھی سیکھتے رہے تھے۔ بعدازاں ہندوستان واپس آکرسرکاری کالج میں پروفیسر بن گئے تھے۔ وہ ایمرسن کالج ملتان کے علاوہ روہتک،ہوشیارپور اور گجرات کے کالجوںمیںبھی پڑھاتے رہے ۔ ملتان کالج میں نوابزادہ نصراللہ خاں، صاحبزادہ فاروق علی خان اور ملک خدا بخش بچہ بھی ان کے شاگرد رہے ۔گجرات میں وہ 40 برس تک مقیم رہنے کے بعدبالآخر واپس سیالکوٹ منتقل ہو گئے تھے ۔خانم پروین اعتصامی نے مایوس ہوکرکسی ایرانی نوجوان سے شادی کرلی تاہم جلد ہی طلاق لے لی اورکچھ ہی عرصہ بعد جوانی میں ہی انتقال کرگئی تھیں، پروفیسراکبر منیر نے کافی مدت بعدگھر والوں کے بیحد اصرار پرشادی کی تھی۔
علامہ اقبال سے پروفیسراکبرمنیرزمانہ طالبعلمی کے دوران ہی متعارف ہوگئے تھے جب یہ اسلامیہ کالج لاہور میں زیرتعلیم تھے توانجمن حمایت اسلام نے 1917ءمیں بین الکلیاتی نظم گئی کا مقابلہ کرایاتو پروفیسر ڈاکٹر علامہ اقبال نے جج کے فرائض سرانجام دیئے، طالب علم اکبرمنیر کی نظم کو پہلا انعام ملا تھا۔بحرین، شیراز،اصفہان ،طہران اوربغدادکے سفر پر روانگی کے وقت پروفیسراکبر منیر اپنے ساتھ علامہ اقبال کی کتابیں”اسرار خودی “ اور ”رموز بے خودی“ بھی لے گئے تھے جبکہ ”پیام مشرق“ چھپنے پر علامہ اقبال نے انہیں ڈاک کے ذریعے بغداد بھجوائی تھی ۔دونوں میں خط و کتابت بھی ہوتی رہی تھی ۔دونوں پنجابی پروفیسرز آپس میں ہی نہیں دوسروں کے ساتھ بھی مادری زبان بولتے تھے لیکن ایک دوسرے کو فارسی اورانگریزی زبانوںمیں خطوط لکھتے رہے تھے ان کے تمام خطوط ”مراسلت اقبال ومنیر“ کے عنوان سے کتابی شکل میںتیار ہوچکے ہیں۔
پروفیسراکبرمنیرہفت زباں تھے پنجابی تو ان کی مادری زبان تھی اس کے علاوہ انہیں اردو ،عربی، فارسی، ترکی ،انگریزی اورفرانسیسی زبانوں پربھی عبور حاصل تھا بلکہ ملتانی، روہتکی اورکشمیر زبانوں کی بھی شدھ بدھ رکھتے تھے ۔ ان کا فارسی مجموعہ کلام ”ماہ نو“اوراردو مجموعہ کلام ”مہرمنیر“کے نام سے چھپا تھا۔”ماہ نو“مکتبہ معارف اسلامیہ اعظم گڑھ سے 1928ءمیں شائع ہوا تھا۔ بلاد اسلامیہ کی پانچ برس تک سیاحت سے واپسی پرلاہور پہنچتے ہی پروفیسراکبرمنیر اگلے روزمولانا غلام رسول مہر اورمولانا عبدالمجید سالک کو ساتھ لے کر علامہ اقبال سے ملنے میکلوڈ روڈ والی کوٹھی پرجا پہنچے تھے جہاں طویل نشست کے دوران انہوں نے بحرین، ایران اورعراق میں قیام کا احوال بیان کیا۔ علامہ اقبال سے ان کا وفات تک تعلق قائم رہا جبکہ ان سے عقیدت ومحبت آخری سانسوں تک برقرار رہی تھی ان کے ادیب،شاعر،مترجم اورصحافی صاحبزادے ازھرمنیر بیان کرتے ہیں کہ علامہ اقبال کے ذکر پرفرط جذبات سے پروفیسراکبر منیر کی آواز بھرا جاتی تھی اوران کی آنکھیں نم ہو جاتی تھیں ،پروفیسر اکبرمنیر نے علامہ اقبال کے حوالے سے کہاتھا….
میرا کلام فیض ہے تیری نگاہ کا
تو نے دیا تھا درس مجھے لا الہ کا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!