Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Allah Deen Ka Charagh

ماڈل ٹائون لاہور میں شیرشاہ سوری ثانی کے محل پر دو روز قبل جو کچھ ہوا، اہل پاکستان کے ساتھ دنیا بھر میں لوگوں نے اسے براہ راست دیکھا، ایک فریق کہتا ہے کہ حمزہ شہباز کو اسی روز صبح دس بجے نیب نے طلب کیا تھا، وہ نہیں آئے اور وقت ضائع کرنے کی پالیسی پر کاربند رہتے ہوئے معاملے کو طول دینا چاہتے تھے، حمزہ شہباز کہتے ہیں مجھے طلب کرنے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی، چند گھنٹوں بعد اس جھوٹ کا پول کھل گیا، میڈیا نے نیب کی طرف سے طلبی کا پروانہ سکرین پر دکھادیا، حمزہ کی زبانی چادر اور چہاردیواری کا تقدس پامال کرنے کی رقت آمیز داستان سن کر خیال تھا کہ سننے والے پھوٹ پھوٹ کر روئیں گے لیکن تلاش بسیار کے باوجود کسی آنکھ میں پانی نظر نہ آیا، البتہ چہروں پر تشویش کے اثرات نمایاں تھے، باخبر ذرائع اس حوالے سے ایک مختلف کہانی سناتے ہیں جس کی تصدیق یا تردید آنے والے ایام میں ازخود ہوجائے گی، ان کے مطابق پاناما اور اقامہ کے راز طشت ازبام ہونے کے بعد شریف خاندان کو یقین ہوچکا تھا کہ اب منی لانڈرنگ کے حوالے سے پوچھ گچھ شروع ہوجائے گی، جسے مخفی رکھنا اور الزامات کی صحت سے بچنا محال ہوگا، اسی خیال کے تحت مختلف فیکٹریوں، رہائش گاہوں، فرنٹ مینوں اور مختلف شراکت داروں کے پاس موجود ریکارڈ اور ثبوتوں کو یکجا کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور کراچی سے خیبر تک جہاں جہاں جو پرزہ کاغذ دفن تھا، اس کی قبرکشائی کرنے کے بعد اسے مبینہ طور پر ڈیفنس کی ایک رہائش گاہ (جسے محفوظ ترین تصور کیا جاتا تھا) پہنچایا گیا اور فیصلہ کیاگیا کہ مناسب وقت پر اسے ماڈل ٹائون پہنچایا جائے گا جہاں سے اسے لندن منتقل کردیا جائے گا، اس منصوبے کے آخری حصے پر انتہائی رازداری سے عمل درآمد کا وقت آن پہنچا تھا، جب اعلان ہوگیا کہ حمزہ کسی بھی وقت لندن روانہ ہوسکتے ہیں تو پھر وہ سب کچھ ہوگیا جسے رنگ میں بھنگ ڈالنا کہا جاسکتا ہے۔
منی لانڈرنگ میں دست راست اور سہولت کار کے طور پر نصف درجن کے قریب افراد زیر حراست ہیں، جن میں فضل داد عباسی اور قیوم قاسم ذمے دار ادارے سے حد درجہ تعاون کررہے ہیں اور وعدہ معاف گواہ بننے پر تیار ہوچکے ہیں۔ بعض کارندوں کی طرف سے ہوشربا انکشافات کی توقع ہے  جب کہ ایک ذریعے نے تصدیق کردی ہے کہ ملزمان نے کچھ ایسی دستاویزات تک رسائی دی ہے، جس کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے میں زیادہ وقت درکار نہیں ہوگا۔جب ایمرجنسی بنیادوں پر کارکنوں کو ماڈل ٹائون پہنچنے اور گرفتاری میں مزاحمت کے لیے کردار ادا کرنے کا ٹاسک دیاجارہا تھا، اس وقت منی لانڈرنگ میں ملوث بعض کردار اہم ثبوتوں کو نذرآتش کرنے میں مصروف تھے، منصوبے کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ آخری درجے کی مزاحمت کے دوران اگر دوچار افراد کام آجائیں تو گریز نہ کیا جائے بلکہ حالات کو ایسے رخ کی طرف لے جایا جائے تاکہ اس ہڑبونگ میں دو بریف کیس وہاں سے غائب کرکے کسی دوسری جگہ پہنچائے جاسکیں۔
آخری اطلاعات آنے تک منصوبے کے کسی حصے پر عمل درآمد نہ ہوسکا، دوربین سے زیادہ تیز نظر رکھنے والے ایک ایک انچ زمین اورایک ایک قدم کی خبر رکھے ہوئے ہیں، جس پر ملزمان کی طرف سے گفتگو کی پیشکش کی گئی، جسے قبول کرتے ہوئے مذاکرات شروع ہوچکے، ایسے مذاکرات کے کئی دور گزشتہ پندرہ روز میں ہوچکے، لیکن بالآخر ایک نکتے پر آکر رک جاتے ہیں، وہ نکتہ ہے کلین چٹ کی فرمائش، جس کے بعد وہ سب کچھ دینے، ہمیشہ کے لیے سیاست سے دستبردار ہونے اور دس برس تک پاکستان کا رخ نہ کرنے پر بھی تیار ہیں، لیکن کلین چٹ کے معاملے پر جہاں کچھ لوگ تیار ہیں اور اس کے حق میں دلیلیں دیتے نہیں تھکتے، وہیں بعض ایسے بھی ہیں جو اس پیشکش کو ٹھکراچکے ہیں۔اسے وقت نہیں تو قانون کا ستم ضرور کہا جاسکتا ہے کہ خصوصی حالات میں خصوصی ملزمان کے بارے میں حکم جاری ہوتا ہے کہ اگر ملزم کو گرفتار کرنا مقصود ہوتو کم ازکم ہفتہ دس روز قبل مطلع کیا جائے، اندازہ فرمائیے کہ جس ملزم کو قبل ازوقت بتادیا جائے کہ فلاں تاریخ فلاں وقت تمہیں گرفتار کرنے کے لیے حکام تمہارے دروازے پر دستک دیں گے، توکیا ملزم افہام وتفہیم سے مقرر وقت پر گرفتار کرنے والے کا استقبال کرے گا یااس سے تین روز قبل اپنی بیٹی، پوتی یا کسی اور رشتہ دار کی مزاج پرسی کے لیے لندن پہنچ چکا ہوگا۔
یادوں کے ورق الٹائے جائیں تو ایک عجیب منظر نظر آتا ہے، جنرل مشرف عدالتوں میں دھکے کھارہے ہیں، (ن) لیگ حکومت انہیں ہتھکڑیوں میں جکڑ کر عدالتوں میں گھسیٹنا چاہتی ہے، لیکن خود میں اتنی ہمت نہیں پاتی کہ جنرل مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرکے انہیں باہر جانے سے روک سکے، یہاں اس وقت کی حکومت کے قانونی سائنسدان دماغ اکٹھے ہوکر اعلیٰ عدالت کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانے کا پروگرام بناتے ہیں اور عدالت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ جنرل مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا حکم جاری کرے۔
اعلیٰ عدالت اس سازش کا بروقت ادراک کرتے ہوئے فیصلہ سناتی ہے کہ یہ فیصلہ کرنا حکومت اور حکومت کی وزارت داخلہ کا کام ہے کہ کس ملزم کا نام کب ایگزٹ کنٹرول میں شامل کرنا ہے اور کب اس کی ضرورت نہیں، یوں معاملہ ایک مرتبہ پھر حکومت کی کورٹ میں آتا ہے جہاں اس وقت کے وزیر داخلہ نثار، وزیراعظم نواز سے مشورہ کرتے اور انہیں بتاتے ہیں کہ ان کی ترکیب وتدبیر ناکام ہوئی، اب جنرل مشرف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں، مشرف کا نام لسٹ سے نکالاجاتا ہے وہ بیرون ملک چلے جاتے ہیں، شیرشاہ سوری ثانی کا نام ایگزٹ کنٹرول میں حکومت نے شامل کررکھا تھا تاکہ وہ مقدمات کی تفتیش میں شامل ہوں اور ان کے مقدمات اپنے منطقی انجام کو پہنچ سکیں۔
بیک ڈور ڈپلومیسی کے تحت سب تدبیریں الٹی ہوگئیں تو چراغ الٰہ دین کو رگڑا گیا، ہمیشہ کی طرح تابع دار جن برآمد ہوا، اس نے پوچھا، کیا حکم ہے میرے آقا، جن سے کہا کہ وہ لندن جانا چاہتے ہیں ان کے راہ کی ہر قانونی وغیرقانونی رکاوٹ کو دُور کیا جائے، جن حکم بجالانے کا کہہ کر رخصت ہوا، واپس آیا تو اس نے آقا کی خدمت میں عرض کی کہ جہاں پناہ سب رکاوٹیں دُور کردی گئی ہیں اور حکومت وقت کو اس سلسلے میں زحمت نہیں دی گئی، جہاز پرواز کے لیے تیار ہے، شیرشاہ سوری جہاز میں سوار ہونے والے ہی تھے کہ ایک وقت پھر دھرلیے گئے، مگر ان کے ہاتھ میں الٰہ دین کا چراغ موجود ہے اور جن ان کا تابع دار بھی ہے۔
بقیہ: صورتحال
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!