Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Ahtasab

اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماﺅں اور قائدین کے خلاف منی لانڈرنگ، غیر قانونی اثاثہ جات بنانے اور کرپشن کرنے جیسے الزامات کے تحت نیب کی جانب سے بنائے جانے والے مقدمات اب اس حد تک متنازعہ قرار دیئے جانے لگے ہیں کہ کوئی بھی صاحب نظر یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ شاید احتساب کے نام پر انتقام کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔ ایسے میں بظاہر نیب کا حکومت کے ساتھ گٹھ جوڑ حالات و واقعات کی سنگینی کو مزید ہوا دینے کا سبب بن رہا ہے۔ صرف اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو احتساب کی سیاہ سولی پر لٹکا دینے کی روش نے نیب کو اس صورتحال سے دو چار کر دیا ہے کہ میرے خیال میں کوئی بھی عام شہری اس بات پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ احتساب کا یہ کارواں درست سمت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں حمزہ شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے نیب کی ٹیم نے ماڈل ٹاﺅن میں واقع ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور میرے نزدیک ایسا عمل کر کے انہوں نے اپنی غیر جانبداری کو بھی مشکوک بنا کر رکھ دیا ہے۔ چندسیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ ادارہ اپوزیشن رہنماﺅں پر ہاتھ ڈالنے کے لیے غیر یقینی اور غیر مصدقہ شواہد کی بنیاد پر پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جسے کسی طور پر بھی غیر جانبدارانہ عمل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف کے خلاف بھی کچھ ایسے ہی طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے جس کی کوئی ٹھوس وجہ بظاہر نظر نہیں آ رہی۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں اس لیے انہیں حراست میں لے کر ان سے تفتیش کرنا ضروری ہے لیکن نیب اس بات کو نظر انداز کیے ہوئے ہے کہ میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف پچھلے دنوں ماڈل ٹاﺅن میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپے مارنے سے پہلے طلب کیے جانے پر بارہا نیب کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ان دونوں شخصیات کے نام ای سی ایل میں بھی ڈالے جا چکے ہیں مگر عدالتی احکامات کے بعد وزارت داخلہ کو میاں شہبازشریف اور حمزہ شہباز کے نام ای سی ایل سے نکالنا پڑے۔ حمزہ شہباز شریف اپنی بیٹی کی پیدائش کے موقع پر کچھ عرصہ قبل انگلینڈ جانے کا ارادہ رکھتے تھے تو انہیں لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے باہر جانے کی اجازت ملی جس کے بعد وہ وطن واپس آگئے تھے۔ نیب نے حال ہی میں ایک بار پھر حمزہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی ہے۔
نیب نے اپنے حالیہ چھاپوں کی وجوہات بیان کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ حمزہ شہباز شریف کی گرفتاری کا مقصد صرف آمدنی سے زائد اثاثہ جات پر نہیں بلکہ ان کے خلاف منی لانڈرنگ کے بھی ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ نیب نے انکشاف کیا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف سمیت ان کے اہلخانہ نے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے جس کی وجہ سے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔ نیب کا یہ بھی کہنا تھا کہ حمزہ شہباز اور ان کے اہلخانہ منظم طریقہ سے منی لانڈرنگ کرتے تھے اور انہوں نے یہ رقم پچھلے چند برسوں کے دوران کرپشن کر کے اس وقت بنائی جب شہباز شریف وزیراعلی پنجاب تھے۔ نیب کو کرپشن اور منظم طریقے سے کی جانے والی منی لانڈرنگ کے سلسلے میں85 ارب روپے کے مالیت کے اثاثوں کا علم ہوا اور اس کے ناقابل تردید ثبوت بھی مل گئے ہیں۔ نیب کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کے مختلف اراکین منظم منی لانڈرنگ اور غیر قانونی دولت بنانے میں ملوث ہیں۔ نیب کا یہ بھی دعوی ہے کہ حمزہ شہباز کی طرف سے 2003ءمیں ظاہر کیے گئے اثاثہ جات 2 کروڑ روپے سے بھی کم تھے لیکن ان کے والد میاں شہباز شریف کے وزیراعلی پنجاب بننے کے بعد ان کی ذاتی دولت میں 41 کروڑ یعنی تقریبا 2 ہزار فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ اسی سلسلے میں نیب ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ حمزہ شہباز کے کچھ قریبی ساتھیوں اور سہولت کاروں کو چند روز قبل گرفتار کیا گیا ہے جنہوں نے دوران تفتیش کرپشن اور منی لانڈرنگ کا پورا طریقہ بتا دیا تھا۔ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے اور منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار ہونے والوں میں قاسم قیوم اور فضل داد شامل ہیں جو شریف فیملی کے دیرینہ ملازم اور سہولت کار ہیں۔ ان دونوں افراد کو 15 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا جا چکا ہے۔
ڈرامائی صورتحال یہ ہے کہ نیب کی ٹیم نے جس روز میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کی ماڈل ٹاﺅن میں واقع رہائش گاہ 96H پر چھاپہ مارا تو وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی بھی گرفتاری کرنے میں ناکام ہو گئے۔ اگلے روز ایک بار پھر ماڈل ٹاﺅن ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا مگر کئی گھنٹوں کے انتظار اور کوششوں کے باوجود حمزہ شہباز شریف کو گرفتار نہیں کیا جاسکا اسی دوران لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے حمزہ شہباز شریف کو پہلے 8 اپریل تک گرفتار نہ کرنے کا حکم سنایا گیا اور 8 اپریل کو عدالت نے ایک بار پھر حمزہ شہباز کی 17 اپریل تک حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔ اس تمام تر صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ نیب نے سیاسی قائدین کی رہائش گاہوں پر ناکام چھاپے مار کر جہاں پر اپنی ساکھ اور غیر جانبداری کو نقصان پہنچایا وہاںبظاہر ان کا حکومت سے گٹھ جوڑ بھی منظر عام پر آگیا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف ہوں یا پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور ہوں یا خواجہ سعد رفیق ، بیورو کریٹ فواد حسن فواد ہوں یا سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ، نیب ابھی تک کسی بھی سیاست دان یا بیورو کریٹ کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کوئی ریفرنس تیار کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ اس کی غیر جانبداری پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ آئے روز سیاسی رہنماﺅں کے خلاف نت نئے الزامات کی بنیاد پر تحقیقات شروع کرنے کی باتیں کرنا وطیرہ بن چکا ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب بھی نیب حکومت مخالف کسی سیاستدان یا رہنما پر ہاتھ ڈالتی ہے تو حکومتی ترجمان نیب کارروائیوں کی حمایت میں پریس کانفرنسز کرکے اس شک کو تقویت دینے لگتے ہیں کہ نیب حکومتی ہدایات اور احکامات کی تعمیل میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی۔حمزہ شہباز شریف کو گرفتار کرنے کے لیے ان کی رہائش گاہ پر مارے جانے والے چھاپوں کے بعد اب سیاستدانوں بالخصوص اپوزیشن جماعتوں کو ایک ایسا لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا جس پر عمل کرتے ہوئے انہیں موجودہ صورتحال سے نجات حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہو سکے جبکہ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیوں سے گریز کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں قانون سازی کے عمل یقینی بنائے۔ عمران خان حکومت پر ابھی بہت مشکل وقت چل رہا ہے اس لیے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں تا کہ قومی امور چلانے میں کسی قسم کی دشواری باقی نہ رہے۔ رہا سوال نیب اور حمزہ شہباز شریف کا تو دونوں کے مستقبل کا فیصلہ ماہ رواں ہی میں ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!