Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Ahsan Maani Ni Wazir e Azam Ki Bachat Palesi Chellenge Kardi !!!!

وزیراعظم عمران خان سادگی کی روایت کو آگے لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے متعدد بار اس کا اظہار بھی کیا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کہ دیگر حکومتی شخصیات کفایت شعاری کی پالیسی کو اپناتی ہیں یا نہیں،عوام کے لیے زندگی آسان ہوتی ہے یا نہیں، مسائل کم ہوتے ہیں یا نہیں، افسر شاہی عوام کی خدمت کا حقیقی کام شروع کرتی ہے یا نہیں، انکے وزراء اور اور سیاسی رہنما اپنے قائد کے وژن پر عمل کرتے ہیں یا نہیں، اسکا فیصلہ تاریخ تو کرے گی، لیکن موجودہ دنوں میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کی اکثریت اور وزیراعظم کے منتخب یا نامزد کردہ افراد مختلف اداروں میں کر رہے ہیں ان سے وزیراعظم کے اعلانات، وژن، انکے منشور اور انکے خیالات کی نفی ہوتی ہے۔ بات عمران خان کی کامیابی یا ناکامی انکے نامزد یا منتخب کردہ افراد کی ہے۔ انکی کفایت شعاری کی پالیسی پر کتنا عمل ہو رہا ہے اسکی صرف ایک مثال پاکستان کرکٹ بورڈ ہے۔ یہاں عمران خان کے نامزد کردہ چیئرمین احسان مانی نے وزیراعظم کی کفایت شعاری کی پالیسی کو ہوا میں اڑایا۔ وزیراعظم پاکستان کی تنخواہ ماہانہ دو لاکھ سے کم ہے، وہ وزیراعظم جو ملک کا نظام چلا رہے ہیں، جو کفایت و بچت کی پالیسی کے رہنما ہیں۔ حیران کن طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی چند نئے افراد بھرتی کیے ہیں اور انکی تنخواہی(بیس لاکھ سے زیادہ, دس لاکھ سے زیادہ) یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ یقینی طور پر وزیراعظم سے بھی زیادہ قابل اور اہل ہیں، وہ ناصرف کرکٹ کو وزیراعظم سے زیادہ سمجھتے ہیں بلکہ انتظامی امور میں بھی عمران خانسے زیادہ قابل ہیں، یہی نہیں مینجنگ ڈائریکٹر وزیراعظم سے بھی زیادہ کام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انکی تنخواہ وزیراعظم پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ بورڈ مہربانی کرے اور انکے ڈیلی الاؤنس دیگر مراعات بھی اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دے تاکہ اندازہ ہو سکے کہ انکی تنخواہ مراعات سمیت وزیراعظم سے کتنی زیادہ بن جاتی ہے۔ کرکٹرز کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونیوالے پیسے کو اپنے من پسند افراد میں بانٹتے پھریں، یہ کیسا نظام ہے، یہ کیسا میرٹ ہے، یہ کیسی تقسیم ہے، ایک ایسا ملک جہاں ایک فاسٹ باؤلر کے پاس سپائکس خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں وہاں ایک ایم ڈی بیس لاکھ ماہانہ سے زیادہ تنخواہ لے رہا ہے، ایک ایسا ملک جہاں ایک باصلاحیت بلے باز کے پاس اچھا بیٹ خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں وہاں کا ڈائریکٹر ڈومیسٹک لاکھوں ماہانہ لے رہا ہے، ایک ایسا ملک جہاں کھیلوں کے میدان نہیں ہیں وہاں ایک ریٹائرڈ”بابو” کو لاکھوں ماہانہ دیے جا رہے ہیں، ایک ایسا ملک جہاں کوئی انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہے وہاں کرکٹ بورڈ نے میڈیا ڈائریکٹر کی خدمات ایک ملین ماہانہ سے زائد پر حاصل کر رکھی ہیں،ایسا ملک جو باصلاحیت کرکٹرز سے بھرا پڑا ہے وہاں چیف سلیکٹر کو اپنی پسند کی ٹیم منتخب کرنے کے دس لاکھ سے زیادہ ماہانہ دئیے جاتے ہیں، ایک ایسا ملک جہاں کے کوچز جونیئر سطح پر بہترین کھلاڑیوں کی کوچنگ کرتے ہیں ان کے سروں پر امپورٹڈ کوچز بٹھا دیے گئے ہیں اور انہیں کروڑوں سالانہ دیے جا رہے ہیں، کیا پاکستان کرکٹ بورڈ پر وزیراعظم عمران خان کا وژن لاگو نہیں ہوتا، کیا پی سی بی افسران کے نزدیک وزیراعظم کے منشور کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟؟؟؟ عمران خان اکیلے کیسے ذاتی خرچہ کم کر کے ملک کو درست کر سکتے ہیں، کیا وزیراعظم کو اپنے نامزد کردہ افراد کو یہ اختیار دے رکھا ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ کے سرمائے کو ضائع کرتے رہیں، آخر کب تک یہ نظام چلے گا، کیا یہی وہ تبدیلی تھی جس کے لیے پاکستان کے عوام نے عمران خان کی آواز پر لبیک کہا تھا، کیا یہ ہے نیا پاکستان، کیا یہ ہے وژن ہے ایک پاکستان کا؟؟؟؟

جناب وزیراعظم یہ شاہ خرچیاں آپ کی توجہ کی منتظر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!