Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Aena Aur BadSoorati !!

نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم بلکہ میں اُسے ”اسلام پسند وزیراعظم“ کہوں گا، اور میرا بس چلے میں اُسے ”مسلمان وزیراعظم“ قرار دُوں، کیونکہ ایک آسٹریلوی گورے کی نیوزی لینڈ میں دہشت گردی جس کے نتیجے میں کئی مسلمان شہید اور زخمی ہونے کے بعد انسانیت اور مسلمانیت کے ساتھ جس اپنائیت محبت اور عقیدت کا اُس نے اظہار کیا جو کہ ہرگز بناﺅٹی نہیں تھا، اُس سے کم ازکم میں اِس یقین میں مبتلا ہوگیا ہوں اندر سے وہ پوری مسلمان ہے۔ اور اصلی مسلمان ہے، یعنی میرے جیسی مسلمان نہیں ہے جس نے جھوٹ ، منافقت ،غیبت ، ریا کاری، بدنیتی،ملاوٹ اور اِس نوعیت کی دیگر خرابیوں کو خرابیاں سمجھنے کے بجائے اُنہیں اپنے ”ایمان “ کا باقاعدہ حصہ سمجھا ہوا ہے اور جس روز میں اپنا یہ ”ایمان“ ”تازہ“ نہ کروں یوں محسوس ہوتا ہے میں اسلام کے دائرے سے کہیں خارج ہی نہ ہوجاﺅں، ….ہم میں سے اکثر نام نہاد مسلمان یہ سمجھتے ہیں، سمجھتے کیا ہیں، اِس پر بھی ہمارا پورا ایمان ہے ہمارے تمام مسائل کا حل اسلام کے پاس ہے۔ اسلام کس کے پاس ہے؟ یہ ہمیں معلوم ہی نہیں ہے۔ البتہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اب ہمیں بڑے زور سے بتادیا ہے اسلام کس کے پاس ہے؟ مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی یا اظہار ہمدردی کے لیے باقاعدہ برقع اوڑھ کر اپنی طرف سے اُس نے اپنا یہ خیال ظاہر کیا ہم بڑے شرم وحیا والے لوگ ہیں اور برقع اس سلسلے میں ہماری ایک بنیادی شناخت ہے، دوسری طرف اپنی شرم وحیا کی اِس ”بنیادی شناخت“ سے ہم تقریباً مکمل طورپر چھٹکارا حاصل کرچکے ہیں۔ برقع تو دور کی بات ہے ہماری اکثر مسلمان خواتین اب دوپٹہ بھی مجبوراً گلے میں لٹکاتی ہیں کہ چلیں گلا کسی کو نہ بھی نظر آئے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، گلہ کونسا کسی کو دکھانے والی کوئی چیز ہے ؟بجائے اِس کے دوپٹے سے وہ اپنا سر ڈھانپیں جو دوپٹہ اوڑھنے کا ایک بنیادی تقاضا ہے یوں محسوس ہوتا ہے دوپٹہ باقاعدہ نفرت کی ایک علامت کے طورپر اُنہوں نے گلے میں لٹکایا ہوا ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے برقع اور دوپٹہ پورے مسلمانی طریقے سے اوڑھا ہوا تھا اور اس میں وہ اتنی اچھی لگ رہی تھیں اُنہیں دیکھ کر ہماری کئی ماڈرن مسلمان یعنی نام نہاد مسلمان خواتین اب سنجیدگی سے غور فرما رہی ہیں اُنہیں بھی برقع اوردوپٹہ اوڑھنا چاہیے۔ ہمارے شرم وحیا کی یہ علامتیں (برقع اور دوپٹہ) دوبارہ جاگ پڑیں اس کا کریڈٹ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو ہی جائے گا۔ البتہ یہ خدشہ بھی ہے ہمارے کچھ ماڈرن یعنی نام نہاد مسلمان اِس لیے اُن کے خلاف ہو جائیں کہ ہم سے پوچھے بغیر یا ہم دین کے ٹھیکیداروں سے باقاعدہ اجازت لیے بغیر ہماری مذہبی روایات کو اپنانے والی، یعنی دوپٹہ اور برقع اوڑھنے والی یہ ہوتی کون ہے؟ دوسری طرف اپنے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد مسلمانوں کی شہادت پر مسلمانوں سے اظہار یکجہتی اور ہمدردی کے جو جذباتی انداز اُس نے اپنائے اُس سے اُس کے اپنے مذہب کے لوگ اس کے اتنے خلاف ہو گئے ہیں اُسے باقاعدہ جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ یقین کریں مجھے تو خود اس گوری وزیراعظم پر بڑا غصہ ہے کہ برقع اوردوپٹہ وغیرہ اوڑھ کر ہماری مذہبی روایات کو اپنا کر اُس نے کوئی اچھا کام نہیں کیا۔ یہ صرف ہمارا حق ہے جو ہم نہیں استعمال کرتے تو ” میرا جِسم میری مرضی“ کے نئے ”سنہری مسلمانی اُصول“ کے مطابق ہم ٹھیک ہی کرتے ہیں، مگر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے ہم سے پوچھے بغیر ہماری کچھ مذہبی روایات کو اپنا کر ہمارے منہ پر جو طمانچہ مارا اِس کی کم ازکم مجھے بڑی تکلیف ہوئی ، ….”بے شرم اور بے حیا گوروں“ کا ایک اور واقعہ مجھے یاد آرہا ہے جو میرے مرحوم کزن نے مجھے سنایا تھا، وہ امریکہ میں رہتا تھا، بہت برس قبل سن فرانسسکو میں ایک خاتون میئر نے منتخب ہونے کے فوراً بعد سروے کروایا اُس کے شہر میں کتنی عبادت گاہیں ہیں اور وہ مختلف مذاہب کے عبادت گزاروں کی تعداد کے مطابق ہیں ؟ ۔ اس سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ اِس شہر میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے جبکہ اُن کی صرف ایک عبادت گاہ (مسجد ) ہے جو دس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، اُس کے مقابلے میں عیسائیوں کی تعداد بہت کم ہے اور چرچ زیادہ ہیں، ….اب جو بات میں آپ کو بتانے والا ہوں، آپ کو اِس پر بالکل یقین نہیں آئے گا، ہمارے نام نہاد مذہب کے ٹھیکیداروں کو تو بالکل ہی نہیں آئے گا، اِس عیسائی میئر نے اُس علاقے میں اپنے ایک چرچ میں کچھ تعمیری تبدیلیاں کروا کر اُسے مسجد بنادیا ، اُس سے اُس کی اپنی برادری میں اُس کی بڑی مخالفت ہوئی، مگر وہ اِس یقین میں مبتلا تھی کہ مسلمانوں کو جو آسانی اُس نے فراہم کی ہے اُس کے بدلے میں اُس کا GODاُسے Heavenدے گا ۔ دوسری طرف اُس علاقے میں رہنے والے میرے جیسے کچھ نام نہاد مسلمان وہاں صرف اس لیے نماز پڑھنے نہیں جاتے تھے کہ یہ پہلے چرچ تھا، میں اپنے انتہائی قابل احترام کچھ علمائے کرام سے پوچھتا ہوں ہمارے ہاں ایسے کسی ظرف کا مظاہرہ کیا جاسکتا ہے ؟ ہمارے ہاں مسجد سے مسجد جڑی ہوئی ہے اور اُن میں اتنے لوگ نماز پڑھنے نہیں آتے جتنے مسجد کے طہارت خانے استعمال کرنے آتے ہیں ۔کیا ہم مسجد کے ساتھ جُڑی ہوئی مسجد میں کوئی یتیم خانہ ہی قائم کرسکتے ہیں ؟۔ کیا ہم اُس مسجد کو کسی تعلیمی ادارے میں بدل سکتے ہیں؟۔ کیا اِس سے فوری طورپر ہمارااسلام خطرے میں نہیں پڑ جائے گا ؟ اور اگر کسی نے زبردستی یہ کردیا تو اُس کی جان خطرے میں نہیں پڑ جائے گی ؟۔ ….ابھی چند روز پہلے ایک بدبخت اور روایتی مُلائی تربیت یافتہ ایک نوجوان نے اپنے ایک عظیم اُستاد پر ایک الزام لگاکر اُنہیں موت کے گھاٹ اُتاردیا۔ اُس کے بعد ایک وڈیو میں نے دیکھی جس میں اپنے اِس عمل پر شرمندہ ہونے کے بجائے وہ فخر کررہا تھا، ہماری کسی این جی او نے اُس اُستاد کے لیے موم بتیاں روشن نہیں کیں۔ ہماری سوسائٹی نے اِس موقع پر بھی ثابت کردیا وہ مکمل طورپر مرچکی ہے اور اُسے دوبارہ زندہ کرنے کی کوئی کوشش اب کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ہم بڑے بدقسمت لوگ ہیں، دنیا اب ہمارے بارے میں اِس یقین میں مبتلا ہوتی جارہی ہے ہم ناقابلِ اصلاح ہیں، انسانیت ہم میں ختم ہوچکی ہے، وہ دانشور بھی اب نہیں رہے جو لِکھتے تھے ”اصل درد دوسروں کا ہوتا ہے ورنہ اپنا درد تو جانوروں کو بھی ہوتا ہے“ …. اور ہم تنقید کرتے ہیں اُن پر جو جانوروں کے درد کو بھی اپنا درد سمجھتے ہیں جن کی نظر میں صرف جان کی قدر ہے چاہے وہ کسی حیوان کی جان ہی کیوں نہ ہو، گزشتہ برس کینیڈا میں میرے برادر نسبتی کا کتا مر گیا تھا، اُس کے بہت سے گورے ہمسائے اُس کا افسوس کرنے آئے۔ چھ ماہ پہلے میرا ایک قریبی رشتہ دار نوجوان اچانک ایک حادثے میں انتقال کر گیا تھا۔ میں روز سوچتا ہوں کسی روز
!!روز جاکر اُس کا افسوس کرآﺅں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!