Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

92 News Ki Salgara Aur KhanPur

صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ روزنامہ 92 نے ہمیشہ مثبت صحافتی اقدار کو روشناس کرایا، ملک میں جمہوریت کی بحالی و استحکام کیلئے جمہوری قوتوں کا ساتھ دیا اور ان کے نقطہ نظر کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، روزنامہ 92 نیوز اور اس کی ٹیم کو کامیاب اشاعت کی دوسری سالگرہ کے موقع پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں، اپنے پیغام میں صدر نے کہا اعلیٰ صحافتی روایات کی وجہ سے روزنامہ 92نیوز کا شمار ملک کے مقبول اخبارات میں ہوتا ہے اور ملک کے طول وعرض میں انتہائی دلچسپی سے پڑھا جاتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے روزنامہ 92 نیوز کو ملک گیر اشاعت کے دو سال مکمل کرنے پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ اخبار کے مدیر، اس سے وابستہ صحافیوں، قلم کاروں سمیت پوری ٹیم کے لئے نیک تمنائوں اور خواہشات کا اظہار کرتا ہوں، روزنامہ 92 نیوز نے پیشہ وارانہ صحافت کی عمدہ مثال قائم کی، آئین کی بالادستی قانون کی حکمرانی اور نظام حکومت میں اصلاح کی خاطر روزنامہ 92 نیوز کی خدمات قابل تعریف ہیں۔ میرے کالم کا عنوان روزنامہ 92 نیوز کی سالگرہ اور خان پور ہے۔ سوال یہ ہے کہ 92نیوز اور خان پور کی ایک دوسرے کے ساتھ نسبت کیا ہے ؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ کوئی بھی اخبار جہاں جہاں جاتا ہے وہاں کے قاری کیساتھ اس کی ایک نسبت اور تعلق ہوتا ہے دوسرا یہ کہ روزنامہ 92کے مالکان کا ایک صنعتی یونٹ خانپور میں موجودہ ہے اس صنعتی یونٹ کا نام حمزہ شوگر مل ہے یہ بہت بڑا پلانٹ ہے شاید شوگر انڈسٹری کے حوالے سے ایشیاء کا سب سے بڑا پلانٹ۔ یہ شوگر مل 1964ء میں خانپور کے علاقہ جیٹھہ بھٹہ میں قائم ہوئی ۔ اس وقت اس کا نام حئی سنز شوگر ملز تھا اور اس کے مالکان کا تعلق کراچی سے تھا۔ مل کے قیام سے خانپور کے غریب عوام کو روزگار کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کو پیداوار کا بہتر معاوضہ بھی ملنا شروع ہوا اور لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہوئی ۔ خانپور میں شوگر فارم کے نام سے ہزاروں ایکڑ سرکاری اراضی بھی موجود ہے جہاں زرعی یونورسٹی قائم ہو سکتی ہے، حئی سنز شوگر مل کو موجودہ مالکان نے خریدا اس وقت مشینری پرانی اور ناکارہ ہو چکی تھی موجودہ مالکان نے نہ صرف نئی اور جدید مشینری لگائی بلکہ مل کو توسیع اور وسعت بھی دی ۔ بہاولپور ٹیکسٹائل ملز خانپور کی بندش کے بعد خان پور کا یہ واحد صنعتی یونٹ ہے جو مقامی طور پر لیبر کو روزگار اور کاشتکاروں کو سہولیات فراہم کر رہاہے ۔ بلاشبہ حمزہ شوگر ملز پاکستان کا قدیم اورپرانا پلانٹ ہے اس سے پہلے رحیم یارخان میں شوگر انڈسٹری کا نام و نشان تک نہ تھا بعدازاں دیکھتے ہی رحیم یارخان میں تیزی کے ساتھ شوگر ملیں بننا شروع ہوئیں اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ سابقہ دور میں حکمرانوں نے اقتدار اور طاقت کے بل بوتے پر سرائیکی وسیب میں تین شوگرملیں غیر قانونی طور پر قائم کیں، ان میں سے ایک ضلع مظفر گڑھ کے علاقے جتوئی اور دو ضلع رحیم یار خان کے علاقے کوٹ سمابہ اور چنی گوٹھ میں عدالت نے اس غیر قانونی اقدام کو نہ چلنے دیا اس کے باوجود ضلع رحیم یار خان جمال دین والی شوگر مل یونائیٹڈ شوگر مل اتحاد شوگر مل ، آر وائی کے شوگر مل کی موجودگی میں یہ پاکستان کا واحد ضلع ہے جہاں سب سے زیادہ شوگر ملیں ہیں اس کے ساتھ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ رحیم یارخان ایشیاکا واحد ضلع ہے جہاں سب سے زیادہ کاٹن فیکٹریاں ہیں گنا، کپاس ، آم اور گندم سب سے زیادہ اسی ضلع میں پیداہوتی ہے اگر حکومت اس علاقے میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کی سرپرستی کرے تو یہ علاقہ فیصل آباد سے آگے ہوگا کہ اس علاقے میں خام مال اور افرادی قوت وافر مقدار میں موجود ہے ۔ پاکستان کے جغرافیے میں رحیم یارخان کو اس لئے بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے کہ یہ تین صوبوں کا سنگم ہے رحیم یارخان کے سیاسی مراکز جمال دین والی میانوالی قریشیاں، رحیم آباد، شیدانی اور محسن آباد عرصہ دراز سے چلے آ رہاہے ۔ما سوائے بھونگ اور رحیم آباد دوسرے چار مراکز بیک وقت جاگیردار بھی ہیں اور گدی نشین بھی مگر وسیب کی ترقی اور عام کی فلاح کے حوالے سے بھونگ رحیم یارخان سمیت سب کا کردار منفی رہا ۔ جاگیرداروں کی موجودگی میں آباد کاروں کی شکل میں نئے سیاستدان سامنے آئے، جاگیرداروں کے ستائے لوگوں نے الیکشن کے موقع پر ان کو ویلکم کہا مگر بعد ازاں یہ بد تر ثابت ہوئے۔ عوام سے ان کا رویہ غیر دوستانہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہیمانہ بھی ہوا جیسا کہ ہیڈ راجکاں چولستان میں آباد کار وفاقی وزیر کی ایما پر قدیم بستی کو ٹریکٹروں س مسمار کرنے کے بعد آگ لگا دی گئی خواتین کو پائوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا ڈنڈوں سے لہو لہان اور ان کی ہڈیاں پسلیاں توڑی گئیں تحریک انصاف مظلوموں کو انصاف دینے سے گریزاں ہے کہ اتحادی جماعت ق لیگ کی ناراضگی سے پنجاب حکومت کے ختم ہونے کا خدشہ ہے افسوس انصاف نہیں دے سکتے تو نام تو بدل دو۔ خانپور میں غربت ، پسماندگی جہالت اور بیماری دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ ہے اور تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے اس علاقے کی اہمیت بہت زیادہ ہے کہ خان پور کو خطے میں ہمیشہ مرکزی حیثیت رہی یہ زرخیز ترین میدانی علاقہ ہے اس کے مشرق میں چولستان کا صحرا اور مغرب میں سندھ دریا اس کے حسن کو دوبالا کرتا ہے ماضی میں خان پور ضلع رہا ہے اور موجودہ ضلع رحیم یارخان ( سابقہ نام نوشہرہ)اس کی تحصیل تھی ، خانپور اپنی نگری آپ وسا توں پٹ انگریزی تھانے ، کا نعرہ دینے والے عظیم سرائیکی شاعر خواجہ غلام فرید کی جنم بھومی ہے، خان پور سے انگریزی سامراج کے خلاف ریشمی رومال تحریک شروع کرنے والے عظیم حریت پسند مولانا عبید اللہ سندھی اور حضرت خلیفہ میاں غلام محمد یٰسین دین پوری کا مسکن بھی ہے۔ خانپور کی تنزلی یعنی ضلع سے تحصیل بننے کا سبب بھی حریت کا کردار ہے خانپور مولانا سراج احمد مکھن بیلوی جن سے مولانا احمد رضا خان بریلوی بہت زیادہ متاثر تھے عاشق رسول حضرت سراج اہلسنت، مولانا عبداللہ درخواستی، مولانا عبدالغنی جاجروی، مولانا یار محمد دھریجہ، مولانا خورشید احمد فیضی، مولانا عبدالشکور دین پوری عظیم صوفی شاعری مولانا محمد یار فریدی گڑھی اختیار خان ، حضرت خواجہ در محمد سئیں کوریجہ ، حضرت جیٹھہ بھٹہ ، شیخ عبدالستار ، بابا گجن درویش، بابا شاہ امان اللہ بابا جندو پیر اور ایسے سینکڑوں با کمال صوفی بزرگوں کا مسکن ہونے کے ساتھ ساتھ قیس فریدی اور امان اللہ ارشد جیسے بے مثال سرائیکی شعراء اور غلام یٰسین فخری جیسے نثر نگاروں اور مقبول احمد دھریجہ جیسے آرٹسٹوں کا مسکن بھی ہے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!