Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

(2 News Aur Chapa Hua Lafz

92نیوز نے اپنی زندگی کے دو سال مکمل کر لئے اور جس دھوم دھام سے اس کی دوسری سالگرہ مختلف اسٹیشنوں پہ منائی جا رہی ہے اس سے کچھ یوں شبہ ہوتا ہے مرتے ہوئے پرنٹ میڈیا میں نئی زندگی پیدا ہو گئی ہے۔ اگر اس اخبار کی ترقی کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو کچھ عجب نہیں کہ مطبوعہ صحافت میں نئی جان پڑ جائے۔ لوگ باگ فیس بک اور سوشل میڈیا کو چھوڑ چھاڑ کر پھر سے اخبار بینی کی طرف مائل ہو جائیں۔ ایسا ہو جائے تو ایسا ہونا ہی چاہیے اس لئے کہ یہ سوشل میڈیا وغیرہ چوراہے کا شور شرابا ہے جیسے کسی بارونق بازار میں لوگ باگ اکٹھے ہو کر بحث و مباحثہ کرنے لگ جائیں۔ اخبار بینی ایک سنجیدہ چیز ہے۔ واقعات اور ان کی تفصیل اور پھر ان کا تجزیہ۔ تجزیے کے بھی کئی رخ اور کئی پہلو جس سے پڑھنے والے کی ایک ٹھوس رائے بنتی ہے۔ اسے پتا چلتا ہے کہ کوئی واقعہ ہوتو اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔92نیوز کا کسی ایک دن کا ہی شمارہ اٹھا لیجیے۔ اس میں اشتہارات کا بھیڑ بھڑکا نہیں ملے گا۔ خبریں اپنی اہمیت کے اعتبار سے تفصیل کے ساتھ خبروں کے ساتھ ضروری تصویریں‘ تجزیاتی اور تبصروں سے مزین کالم‘ رائے سازی کرتا اداریہ۔ مختلف اہم کتابوں سے دل چسپ اقتباسات جن سے اس کتاب بیزار معاشرے میں کتاب پڑھنے کی خواہش بیدار ہو‘ بچوں کے صفحات ‘ خواتین کی دلچسپی کا لائق مطالعہ مواد‘ شہروں کی سیاسی سماجی ڈائریاں دیگر خصوصی صفحات اور پھر میگزین بھلا ایسے اخبار کا نعم البدل فیس بک اور سوشل میڈیا حتیٰ کہ ٹیلی ویژن ہو سکتا ہے؟ یہ ٹھیک ہے کہ معاشرہ بدلتا جاتا ہے لوگوں کے ذوق و مذاق میں بھی ناقابل فہم تبدیلی آ گئی ہے‘ صنعتی مشینی زندگی نے لوگوں کو تن آسان بنا دیا ہے۔ وہ بستر پہ دراز ہو کے یا صوفے میں دھنسے موبائل سے کھیلنے میں عجیب سا لطف اور آسودگی محسوس کرتے ہیں۔ اخبار پڑھنا ان کے لئے کوفت کا باعث بنتا جا رہا ہے لیکن اس کا نتیجہ کیا ہے؟ ادھوری معلومات ‘ ویڈیوز کے چھوٹے چھوٹے کلپس جو وقتی طور پر چونکا دیں یا محظوظ کر دیں جن سے کوئی مربوط فکر جنم نہ لے‘ آپ کسی واقع کی گہرائی میں اتر نہ سکیں‘ ملکی اور عالمی حالات کو پورے پس منظر کے ساتھ سمجھ نہ سکیں۔ اپنے ملک و معاشرے کے حقیقی مسائل تک پہنچ نہ سکیں۔ آپ کو یہ بھی احساس نہ ہو سکے کہ موبائل اور کمپیوٹر نے آپ کو سوچنے سمجھنے کے اعتبار سے کند ذہن اور ناکارہ بنا دیا ہے۔ آپ صرف ایک Reactionaryفرد بنتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی معاملے میں جذباتی انداز میں اپنا ردعمل ظاہر کرنے والے۔ہم یہ جو کچھ دیکھ رہے ہیں بہت جلد یا بدیر اس کی یکسانیت ان لوگوں کو اکتا دے گی جو فیس بک پر کچھ نہ کچھ پوسٹ کر کے اس کی لائیکنگ اورڈس لائیکنگ کا کھیل کھیلتے رہتے ہیں اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پہ کسی لایعنی اور لامتناہی بحث میں الجھے رہتے ہیں۔ ان کا کچھ حاصل نہیں‘ وقت کے زیاں کے سوا۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ ہر ترقی مثبت‘ تعمیری اور قابل داد ہے۔ ہمیں سوچنا اور دیکھنا چاہیے بلکہ چوکنا رہنا چاہئے کہ نئے میڈیا سے ہماری شخصیت‘ ہمارے ظاہر و باطن پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ہم کیا تھے اور ان کے استعمال سے کیا ہوتے جا رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی آگے جا رہی ہے تو ہم بھی آگے جا رہے ہیں یا پیچھے ہوتے جا رہے ہیں۔ ہاں اس نئے میڈیا اور نئی ٹیکنالوجی نے ہمیں سنجیدگی سے سوچنے سمجھنے کے قابل ہی کہاں چھوڑا ہے۔ چلیے آج نہیں تو کبھی نہ کبھی تو وہ وقت آئے گا جب ہمیں سوچنا پڑے گا کہ کب تک‘ آخر کب تک؟ 92نیوز اور دیگر نئے اخبارات کا اجرا اس بات کی نوید ہے کہ مطبوعہ صحافت کی کئی صدیاں پرانی مضبوط و محکمہ روایت اتنی آسانی سے ہار ماننے والی نہیں۔ معاشرے میں چھپے ہوئے لفظ سے جڑے رہنے میں مسرت محسوس کرنے والا ایک طبقہ ہمیشہ رہے گا جو صبح اٹھ کر ہاکر کا انتظار کرے گا اور اخبار کھول کر اپنے کسی پسندیدہ کالم نگار کو پڑھنا چاہے گا کہ دیکھیں آج اس نے کیا لکھا ہے؟ چاہے یہ طبقہ تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہو لیکن اخبارات اسی طبقے کے لئے نکلتے رہیں گے‘ کتابیں ان ہی کے لئے چھپتی رہیں گی۔ کاغذ کے لمس میں وہ جادو ہے جو موبائل اور کمپیوٹر و ٹیلی ویژن کے اسکرین میں نہیں اور ان چھپے ہوئے لفظوں میں جو صفحہ قرطاس پہ بکھرے ہوں‘ ان میں عقل و حکمت کے جو موتی رلے ہوتے ہیں وہ اسکرین پر ٹائپ شدہ لفظوں میں کہاں۔ کتاب‘ اخبار اور رسالے سے انسانی علم و معلومات کا جو سفر صدیوں پہلے شروع ہوا تھا وہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے ہوتا ہوا اب چھوٹے سے موبائل کے برقی ڈبے میں منتقل ہو گیاہے جس میں سبھی کچھ دستیاب ہے۔ اس کی اسکرین پہ کتاب بھی پڑھی جا سکتی ہے‘ اخبار بھی دیکھا جا سکتا ہے‘ فلمیں بھی‘ نغمے بھی اور بہت کچھ۔ لیکن ذرا کوئی دل پہ ہاتھ رکھ کر سچ سچ بتائے کہ کیا موبائل پر پڑھنے سے وہ اطمینان‘ مسرت سکون اور سرخوشی حاصل ہوتی ہے جو کتاب اور اخبار کو براہ راست پڑھنے سے ملتی ہے۔ ایسا اس لئے ممکن نہیں کہ موبائل اور کمپیوٹر پہ کچھ دیکھتے اور پڑھنے ہوئے ہماری حیثیت وہ نہیں ہوتی جو کتاب اور اخبار کو پڑھتے ہوئے ہوتی ہے۔ پہلی صورت میں ہم مفعول اور دوسری صورت میں فاعل ہوتے ہیں یعنی اثر قبول کرنے والا اور اثرات کو اخذ کرنے والا۔ یقین نہ آئے یا سمجھ نہ آئے تو کتاب اور اخبار پڑھ کر اور موبائل و کمپیوٹر استعمال کر کے آئینہ دیکھ لیجیے۔ ڈیڑھ دو گھنٹے کی یہ مصروفیت آئینے میں آپ کے چہرے کے عکس کے فرق سے ظاہر ہو جائے گی۔ میں کسی کو اس حق سے محروم نہیں کرتا اور نہ مطعون ہی کرنے کو پسند کرتا ہوں کہ کوئی نئے میڈیا کا عاشق و دلدادہ کیوں ہے اور پرنٹ میڈیا سے کنارہ کش کس لئے ہے۔ جمہوری معاشرے میں ہر فرد کو حق ہے کہ اخبار پڑھے یا نہ پڑھے۔ لیکن جمہوری معاشرے میں اظہار خیال کی بھی آزادی ہوتی ہے کہ کوئی اپنے انتخاب اور پسندیدگی کا جواز پیش کرنا چاہے تو ضرور کرے۔ اس کی دلیل کا وزن ہی اس کی صداقت کی گواہی دے سکتا ہے اور چاہے تو کوئی مانے اور چاہے تو تسلیم نہ کرے۔ مجھے یہ کہنے کا پورا حق ہے کہ انسانی فکر نے ڈھائی تین ہزار برسوں میں ارتقا کی جو منزلیں طے کی ہیں‘ اس کا سفرجمود کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس لئے کہ معاشرے میں اب ان لوگوں کے لئے کوئی قابل عزت جگہ کوئی باوقار مقام نہیں رہا جو سوچتے ہیں اور نئے خیالات کی آبیاری کرتے ہیں۔ معاشرے نے ان لوگوں سے ناتا توڑ کر انہیں اس طرح اجنبی بنا دیا ہے جس سے یہ گمان ہوتا ہے کہ اب فکر تازہ کی بازار میں کوئی مانگ نہیں رہی۔ اس لئے کہ فکر تازہ کا ماخذ کتاب ہے اور نئی صورت ہی اخبارات کے مضامین اور کالم ہیں۔ معاشرہ اگر ان سے منہ موڑ لے گا تو دراصل فکر و خیال سے اپنا رشتہ توڑے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!