Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Sahafat aur Tawaef

یہ نیک بی بی جس کی عفت و عصمت کی قسم کبھی بلا جھجک کھائی جاتی تھی، جس کے مقدس ہونے کی دہائی آنکھیں بند کر کے دی جا سکتی تھی اور جس کی عزت و حُرمت مولانا ظفر علی خان، چراغ حسن حسرت اور آغا شورش کاشمیری کے دور میں محفوظ و مامون تھی۔ اورگزرے وقت کے ساتھ ساتھ بے عزت ہوتی، پابجولاں چلتی، سسکتی، رینگتی، چاک گریباں یہ صحافت نامعلوم منزلوں کی طرف بے جادہ و منزل رواں دواں ہے ۔گو کہ اس کی رفوگری ہمارے چند ایک سرکردہ صحافتی بزرگ گاہے بہ گاہے کرتے رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود ’بی بی صحافت‘ کے تار تار وجود کا ننگ چھپائے نہیں چھپتا اور اس کے آبلہ پا بدن کے رستے ہوئے پیپ اور سرانڈ سے ساری کی ساری فضا بدبودار ہو رہی ہے۔ چنانچہ آج کا بڑا اور چبھتا ہوا سوال یہ ہے کہ اس تمام تر صحافتی زبوں حالی کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے؟ کیا یہ گناہ آتی جاتی حکومتوں کے سر ہے، کسی ایک ادارے پر یا پھر خود صحافیوں اور صحافتی اداروں پر، الیکٹرانک میڈیا پر یا اینکروکریسی پر یا ”پیسے کیلئے کچھ بھی کرے گا“ کی دوڑ میں بھگٹٹ بھاگتے ہوئے میڈیا مالکان پر؟ اگلے روز پاکستان سے لندن آئے ہوئے چند سینئر صحافیوں نے ایک نجی نشست کے دوران پاکستانی صحافت کے دگرگوں حالات پر بڑے ہوشربا انکشاف کئے ۔ ان کا یقین ہے کہ ہماری صحافت پر اتنے کٹھن اور بُرے دن گزشتہ سات دہائیوں میں بھی نہیں آئے تھے بلکہ مارشل لا ادوار میں بھی صحافت اس قدر دباﺅ میں نہیں تھی لیکن آج بعض دیدہ و نادیدہ قوتوں نے اسے کان سے نہیں بلکہ گلے سے پکڑ رکھا ہے۔ لہٰذا حالت یوں ہو چکی ہے کہ ہماری صحافت کا حال اُس طوائف کی طرح ہے جو خود کو بیچ کر روزی کماتی ہے بلکہ ہمارے ایک دوست نے تو اس صورتحال سے بھی آگے کی بات یوں کی کہ چلیں، طوائف تو کسی نہ کسی طرح کمائی کر ہی لیتی ہے لیکن ’ہم تو وہ طوائف ہیں، کہ جو سربازار بکتے بھی ہیں اور اپنے ضمیر کی اس فروخت کا معاوضہ طلب کرنے کی طاقت و حوصلہ بھی نہیں رکھتے اور بندھے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ بین کرتے یہاں وہاں دیکھے جا سکتے ہیں بالکل فارسی کی اس مثال کی طرح کہ
پا بدستِ دیگرے دست بدستِ دیگرے
یعنی پاﺅں ایک کے ہاتھ میں اور ہاتھ دوسرے کے ہاتھ میں۔ یا ہماری کسمپرسی اور حالتِ زار کا تجزیہ اس شعر سے کر لیا جائے کہ
ہم زندگی کی دوڑ میں شامل تو ہیں مگر
نے ہاتھ باگ پہ ہے نہ پا ہے رکاب میں
یقینی طور پر یہ ایک انتہائی الارمنگ صورتحال ہے جو ریاست کے اس چوتھے ستون کو درپیش ہے کیونکہ اگر آئینہ دھندلا ہو تو معاشرے کو کسی صورت اجلی تصویر نہیں دکھائی جا سکتی چنانچہ اس دھندلاہٹ کی سزا نسلوں کو بھگتنی پڑتی ہے۔ ایک اُردو محاورے کے مطابق ”طوائف کی خرچی اور وکیل کا خرچہ پہلے ادا کیا جانا ہے“ تو اگر یہ بات سچ ہے کہ آج پاکستان کے صحافیوں کی حالت طوائف یا میرے مذکورہ صحافی دوست کے بقول بغیر معاوضے والی طوائف کے جیسی ہو چکی یا بنا دی گئی ہے تو اس کے انتہائی مضر اثرات ایک تو بیروزگاری کی صورت سامنے آئیں گے۔ دوسرا یہ کہ رشوت، لالچ، نفسا نفسی، اخلاقی قدروں کی تباہی کے ساتھ ساتھ صحافت کا پہلے سے بگڑ چکا چہرہ مزید مکروہ ہو گا اور بحیثیت مجموعی پوری قوم و معاشرہ اس کی زد سے بچ نہیں سکے گا کیونکہ صحافت کی گھٹی ہوئی گردن سے جو آواز نکلے گی یا خبر سامنے آئے گی وہ لغو بھی ہو گی اور اس میں خیر کے بجائے شر کا پہلو نمایاں ہو گا جو پہلے سے بکھرے ہوئے معاشرے کو بے مقصدیت کی اتھاہ تاریکیوں میں دھکیلنے کا باعث بنے گا۔ میرے دوستوں کا یہ کہنا بھی نادرست نہیں کہ پاکستان کی صحافت میں کرپشن یا اس کے متعلق طوائف جیسے لفظ کا استعمال بھی کوئی نیا نہیں ہے بلکہ پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد ہی یہ لفظ پاکستان کے حکمران طبقہ کی طرف سے صحافت یا صحافیوں کے لئے استعمال کیا گیا، میں یہ واقعہ پہلے بھی کہیں لکھ چکا ہوں۔ یہ گفتگو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ایک اخبار کے ایڈیٹر (بوجوہ اخبار اور ایڈیٹر کا نام نہیں لکھا) کے درمیان ہوئی، بھٹو اسلام آباد سے کراچی پہنچے تو ایک روزنامہ کے ایڈیٹر….نے ان سے ملاقات کی اس موقع پر ان دونوں کے مابین جو مکالمے ہوئے ان کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ
بھٹو:….تم یہاں کیا لینے آئے ہو؟
ایڈیٹر: جناب میں آپ کو مبارک دینے حاضر ہوا تھا….میں….
بھٹو: (بات کاٹتے ہوئے) ایک منٹ ٹھہرو پہلے یہ بتاﺅ کہ اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے بارے میں تم کیا کہو گے، کیا تم مجھ سے بھی دوغلا پن برتنے کی کوشش کر رہے ہو؟
ایڈیٹر: نہیں جناب، یہ خبر میری مرضی و منشا کے خلاف شائع کی گئی ہے۔ مجھے اس کا علم نہیں تھا، میں اس سلسلے میں خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں لیکن میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کر رہا ہوں۔
بھٹو: ہوں! تم نے اپنا پرانا کھیل پھر کھیلنا شروع کر دیا ہے۔
ایڈیٹر: جی نہیں، ایسا بالکل نہیں ہے آپ جس چیز کی چاہیں میں قسم کھانے کو تیار ہوں۔
بھٹو: تمہیں معلوم ہے کہ ایوب خان نے تمہارے متعلق کیا رائے قائم کی تھی؟
ایڈیٹر: وہ تو صاحب آمر تھا، ڈکٹیٹر تھا اس نے آزادی صحافت ختم کر کے رکھ دی تھی۔
بھٹو: کچھ بھی ہو، اس نے منگلا ڈیم تعمیر کر کے اور تمہیں (پی جے ایف) کا خطاب دے کر جو اہم خدمات انجام دی ہیں ان کی وجہ وہ ایک عرصہ تک یاد رکھا جائے گا۔
ایڈیٹر: جی میں سمجھا نہیں یہ ’پی جے ایف‘ کیا چیز ہے۔
بھٹو: مجھ سے جھوٹ بولنے کی کوشش نہ کرو، ایوب خان نے مختلف اخباروں کے 25 مدیروں کی موجودگی میں تمہیں ”بازارِ صحافت کی طوائف (Prostitute of Journalist Fraternity) کا ٹائیٹل دیا تھا۔کہو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو؟
ایڈیٹر: جناب آپ میرے ساتھ زیادتی فرما رہے ہیں۔ آپ کے علم میں شائد یہ بات نہیں کہ میں نے اخبار کے صفحہ¿ اول پر آپ کی چار پانچ تصاویر شائع کی ہیں اور انتخابات کے دوران آپ کی پوری حمایت کی ہے، میرا خیال ہے آپ اس سے انکار نہیں کریں گے۔
بھٹو: ہاں اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ انتخابی مہم کے ابتدائی مراحل میں جب تمہارے مفادات جماعت اسلامی کے ذریعے تحفظ پا رہے تھے تو تمہارا اخبار ….اس کا ترجمان بنا ہوا تھا، میں تم جیسے گرگٹوں سے اچھی طرح سے واقف ہوں۔
ایڈیٹر: جناب میں نے بعد میں بھی اخبار کے صفحہ اوّل پر آپ کی چار تاریخی تصاویر شائع کی تھیں اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ اخبار کے صفحہ اول کا نرخ 34 روپے فی کالم انچ ہے۔
بھٹو:مجھے اپنے نرخ ناموں سے متاثر کرنے کی کوشش نہ کرو میں جانتا ہوں کہ پیسے کی ہوس کی وجہ سے تم یہودی مشہور ہو۔ تم ایک روپے کی خاطر اپنے آپ کو بھی ڈبل کراس کرنے سے نہیں رہ سکتے، لیکن اس سے پہلے تم ایوب خان کی بھی چار چار پانچ پانچ تصویریں نہیں چھاپتے رہے ہو، اور ہاں اس موقع پر مجھے نواب کالا باغ مرحوم یاد آ رہے ہیں جنہوں نے تمہارے لئے ’رنڈی‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔
بھٹو اور مذکورہ ایڈیٹر کے مابین یہ مکالمہ خاصا طویل ہے، لیکن حکمرانوں کی طرف سے صحافیوں کے لئے اس قسم کا رویہ اور القاب ہمارے لئے شرمندگی کا باعث بھی ہیں اور لمحہ فکریہ بھی لیکن حالیہ صورتحال کے ذمہ دار صرف صحافی یا صحافتی ادارے نہیں ہیں بلکہ معاملات اس نہج تک پہنچانے میں حکومت خود بھی شامل ہے۔ مثال کے طور پر میڈیا کی ریڑھ کی ہڈی اشتہارات ہوتے ہیں اگر حکومت یہ اشتہارات بند کر دے تو بجائے روزگار فراہم کرنے کے حکومت ہزاروں کی تعداد میں صحافیوں اور دیگر میڈیا ورکرز کی بیروزگاری کی براہ راست خود ذمہ دار ہو گی۔ عرض صرف یہ ہے کہ ہمیں طوائف یا رنڈی کے ’خطابات‘ دینے اور ہمیں دیوار سے لگانے والے ادارے صرف ایک بات جو حقیقت بھی ہے کہ جب طوائف بکتی ہے تو صرف ایک جسم ناسور بنتا اور برباد ہوتا ہے لیکن جب صحافت اور صحافیوں کی عزت نفس و انا نیلام ہوتی ہے تو تاریخ مسخ اور قومیں برباد ہوتی ہیں چنانچہ ہماری قلم و زبان کو آزاد رہنے دیں اسی میں ملک و قوم کی بھلائی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!