Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Tyar Ho Jaen Pir Modi Ke Lie

خوش فہم اور دنیا کو بہتر دیکھنے کی خواہش رکھنے والے لوگوں کی خوش گمانیوں ، امیدوں اور غلط فہمیوں کے ذریعے انتخابات کے نتائج بنا کرتے تو نہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کا صدرہوتا، نہ نریندر مودی وزیر اعظم ہندوستان ۔زمینی حقائق اپنی تمام تر سنگینیوں کے باوجود آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سامنے کھڑے ہوتے ہیں ۔ان سے نظریں چرائی نہیں جاسکتیں۔ ہندوستان میں انتخابات سامنے کھڑے ہیں۔ صورت حال 2014ء کے انتخاب جیسی تو نہیں لیکن زمین آسمان کا فرق بھی نہیں پڑا ہے ۔اور اگر کوئی غیر معمولی صورت حال پیش نہ آئی تو بظاہر بی جے پی اور اتحادی جماعتیںمرکز سمیت کئی حکومتیں بنانے کی پوزیشن میں ہیں ۔ گویا مودی صاحب ایک بار پھر شہ نشین پر براجمان ہوجائیں گے۔پاکستان کی تو بات الگ ، خود ہندوستان میں سمجھ دار طبقہ اور مسلمانوں سمیت سب اقلیتیں اس خوف کا شکار ہیں کہ اس متوقع صورت حال کو کیسے روکا جائے اورجیت کی شکل میں آئندہ پانچ سال مودی صاحب کو لگام کیسے ڈالی جائے ۔اگرچہ ممکنہ طور پر بے جے پی جیت بھی گئی تو2014ء جیسی طاقت میں نہیں ہوگی ، لیکن لوگ اس خطرے کا شکار ہیں کہ وہ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھائے گی اور پہلے سے زیادہ سفاکیت کے ساتھ اقلیتوں کے ساتھ پیش آئے گی۔ ذرا ایک نظر ہندوستان کی موجودہ انتخابی صورت حال پر ڈالتے ہیں ۔ اس وقت ہندوستان میں سب سے بڑی سیاسی جماعتیں دو ہیں۔بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی ) اور کانگریس ۔ ان دونوں بڑی جماعتوں نے چھوٹی بڑی مرکزی اور علاقائی جماعتوں سے مل کر اپنے اپنے انتخابی اتحاد بنائے ہوئے ہیں ۔ اصل مقابلہ ان دو انتخابی اتحادوں کے درمیان ہے ۔نیشنل ڈیمو کریٹک الائنس۔ یعنی این ڈی اے (NDA (پہلا اتحاد ہے ۔اس میں بی جے پی سب سے بڑی جماعت کے طور پر موجود ہے ۔ اس کے ساتھ جے ڈی یو ۔ ایل جے پی ، اپنا دل ،آرپی آئی ،شیو سینا ، SAD اور دیگر چھوٹی جماعتیں اس اتحاد میں شریک ہیں ۔ دوسرے اتحاد یونائیٹد پروگریسو الائنس (یو پی اے، UPA ) میں کانگریس سب سے بڑی جماعت ہے ۔ اس کے ساتھ,JD(S) TDP, NC, HAM, DMK, NCP, RJD اور دیگر جماعتیں اتحاد میں موجود ہیں ۔اگرچہ ایک تیسرا انتخابی اتحاد لیفٹ ڈیمو کریٹک فرنٹ ایل ڈی ایف(LDF) کے نام سے بھی موجود ہے جس میں دس کمیونسٹ اور انتہائی بائیں بازو کی دس جماعتیں موجود ہیں تاہم اصل مقابلہ پہلے دو اتحادوںہی کے درمیان ہے ۔ ایک بات اس انتخاب میں بھی واضح ہے اور وہ یہ کہ علاقائی اثر و رسوخ رکھنے والی چھوٹی جماعتیں اس انتخاب میں بھی اہم کردار کی حامل ہوں گی ۔ ہندوستان کے معاملے میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہاں اکثر ووٹر غیر تعلیم یافتہ ، ناسمجھ ، جذباتی نعروں کی رو میں بہنے والا ہے ۔ یہ صورت حال اگرچہ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک میں بھی ہے لیکن ہندوستان سے یہ تناسب کم ہے ۔ایسی ہندو اکثریت سے مذہب ، پاکستان دشمنی اور مسلم دشمنی کی بنیاد پر ووٹ اکٹھے کرلینابی جے پی اور دیگر ہندو قوم پرست جماعتوں کا پرانا، آزمودہ اور کارگر طریقہ کار رہا ہے ۔جیسا کہ سب جانتے ہیں پاکستان سے موجودہ سوچا سمجھا تصادم بھی سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ہے اور اسی لیے پاکستان کو یہ خطرہ ہے کہ انتخابات سے پہلے کوئی اور مہم جوئی بھی کی جاسکتی ہے ۔پاکستان پر حملے کا ڈھونگ رچا کر اور مسلسل جھوٹ بول کر جاہل عوام میں بی جے پی نے اپنی گڈی اور چڑھا لی ہے ۔ مودی حکومت نے اپنی مسلح افواج کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا ہے اور پڑھے لکھے لوگ یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔لیکن مسئلہ وہی ہے کہ سمجھ دار اور پڑھے لکھے لوگ ہیں کتنے ؟یہ تمام ووٹ مودی کے خلاف پڑیں تب بھی کیا ہوگا ؟ مجموعی نتائج پر کوئی بڑا اثر پڑنے والا نہیں۔جمہوریت میں اصل ضرورت سمجھدار طبقہ نہیں ووٹر ہے ۔ صورت حال یہ ہے کہ قومی اسمبلی یعنی لوک سبھا کی کل 543نشستیںہیں جن میں اینگلو انڈین نشستوں کا اضافہ کرکے کل نشستیں 545ہوجاتی ہیں۔اس وقت ہندوستان کے کل 29 صوبوں میں سے 19میں بی جے پی از خود یا اپنے انتخابی اتحاد کے ذریعے حکومت کر رہی ہے ۔ ان میں یوپی، مہاراشٹرا، مدھیہ پردیش،بہارجیسی بڑی اور انتخابی لحاظ سے نہایت اہم ریاستیں بھی شامل ہیں۔ کانگریس کے انتخابی نتائج کے اعتبار سے سب سے بڑی جماعت بن جانے کے امکان بالکل نہیں ہیں جبکہ بے جی پی کے معاملے میں یہ امکان موجود ہے۔ یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ بی جے پی کو 2014ء جتنی نشستیں نہیں مل سکیں گی ۔2014ء میں اسے 282نشستیں ملی تھیں اور این ڈی اے کی مجموعی طور پر336نشستیں تھیں۔ کانگریس کو صرف44 سیٹیں ملی تھیں اس بار بی جے پی کو بہت زیادہ انحصار اپنے اتحادیوں پر کرنا پڑے گا ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق بی جے پی 2014ء کے مقابلے میں 25% نشستیںکم حاصل کرسکے گی لیکن اس کے باوجود مقابلے میں کسی بڑی کرشماتی اور ووٹ کھینچ لینے والی شخصیت کے نہ ہونے کا فائدہ مودی کو پہنچے گا۔دوسرے الفاظ میں این ڈی اے ایک بڑی جماعت کے طور پر ابھرے گی ، بی جے پی نہیں ۔ انتخابی نشستوں میں ظن و تخمین ہی سے کام لینا پڑتا ہے ۔ اگر ہندوستانی ریاستوں کے انتخابی نتائج کا تخمینہ لگایا جائے تو پانچ سات فیصد فرق کے ساتھ بھی شاید یہ تخمینہ غلط نہ ہو جس کے لیے میں نے انتخابی پولز سے بھی مدد لی ہے ۔ پہلے سب سے بڑی دو ریاستوں کی بات کرلیں مہاراشٹرا(48 نشستیں) این ڈی اے 23،یو پی اے17 ‘ شیو سینا8‘یو پی (80 نشستیں)این ڈی اے35،یو پی اے2، ایس پی26،بی ایس پی17۔ شمالی ہندوستان میںجموں اور کشمیر (6نشستیں) این ڈی اے3‘ یوپی اے 3‘ہماچل پردیش(4 نشستیں)این ڈی اے 4 ،یوپی اے صفر‘اتر کھنڈ(5 نشستیں)این ڈی اے5، یو پی اے صفر‘پنجاب (12 نشستیں) این ڈی اے 5،یو پی اے7۔ جنوبی ہندوستان میں کیرالہ (20 نشستیں)،این ڈی اے ،یو پی اے 7‘تامل ناڈو (39 نشستیں)، این ڈی اے 16،یوپی اے23،کرناٹکا(28 نشستیں) این ڈی اے18،یو پی اے10‘ تلنگانہ (17 نشستیں)این ڈی اے صفر،یوپی اے صفر، آندھرا پردیش(25 نشستیں)این ڈی اے 2،یوپی اے 7۔ مغربی بنگال (42 نشستیں)‘این ڈی اے 12 ، یوپی اے 3‘ٹی ایم سی 26‘اڑیسہ (20 نشستیں) این ڈی اے 11، یو پی اے صفر،بی جے ڈی 9۔ جھاڑ کھنڈ (14 نشستیں) این ڈی اے 8 ،یو پی اے 2‘گوا (2 نشستیں)این ڈی اے 1، یو پی اے1۔ وسطی علاقوں میں ہریانہ (10 نشستیں)‘این ڈی اے 8 ، یو پی اے 2‘دہلی (7 نشستیں) این ڈی اے 7 ،یو پی اے صفر‘ چھتیس گڑھ (11 نشستیں)‘ این ڈی اے6‘یو پی اے 5‘بہار(40 نشستیں) این ڈی اے 31،یو پی اے9‘راجستھان(25 نشستیں)‘این ڈی اے 17،یو پی اے 8‘مدھیہ پردیش (نشستیں)‘ این ڈی اے21،یو پی اے 8، گجرات (26 نشستیں) این ڈی اے 25،یو پی اے 1۔ شمال مشرقی ہندوستان‘(25 نشستیں) این ڈی اے 18،یوپی اے4۔ باقی ماندہ پونڈی چری ،ڈامان اینڈ ڈیو، جزائر انڈمان اور نکوبار،لکشادویپ،چندی گڑھ، دادرا اور نگر حویلی‘این ڈی اے 4،یو پی اے 2۔ چنانچہ اس تخمینے کے مطابق لوک سبھا کی 543 نشستوں میں این ڈی اے280 جس میںاتحادی شیو سینا کی 8 نشستیں شامل کرلیں توان کی 289 نشستیںبن جاتی ہیں۔جبکہ یو پی اے کی 120 نشستیں ہوجائیں گی ۔ دیگر پارٹیوں کی نشستیں اندازاًـ 134 ہوں گی ۔ آپ نے دیکھا کہ یہ صورت حال بی جے پی اور مودی مخالف طاقتوں کے لیے بالکل خوش آئند نہیں۔ نشستوں کی تعداد کچھ کم زیادہ ہوسکتی ہے لیکن اپنے آپ کو ذہنی طور پر ابھی بی جے پی بلکہ این ڈی اے کی آئندہ حکومت کے لیے تیار کرلینا چاہیے ۔ ہندوستان ایک بار پھر مودی کی طرف یعنی مزیدمذہبی انتہا پسندی اور تنگ نظری کی طرف جارہاہے۔غلط فہمی میں بالکل نہ رہیں ۔تیار ہوجائیںمودی کے لیے ۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!